تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 596 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 596

تاریخ احمدیت جلد ۴ 561 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال ہیں لوگوں میں یہ امر جماعت کی سیکی کا موجب ہو جاتا ہے اور یہ میں بار ہا تا چکا ہوں کہ دنیا اخلاق سے فتح ہو سکتی ہے نہ کہ ہمارے زور دار الفاظ سے۔اس لئے آئندہ کے لئے میں اپنے تمام احباب کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ جوابا بھی کوئی ایسا کلمہ اپنی تحریرات میں درج نہ کریں جس سے کسی پر ان سے ادنی ذاتی حملہ بھی ہوتا ہو بلکہ صرف مسائل کی تحقیق سے کام لیں۔چونکہ کسی فریق کے حد سے بڑھ جانے پر بعض دفعہ الزامی جواب کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔اس لئے میں سر دست اس اعلان کو تین ماہ کی مدت سے مشروط کرتا ہوں اس تین ماہ کے عرصہ میں تو خواہ کوئی حالات بھی پیش آئیں اور الزامی جواب نہ دینے سے نقصان بھی ہو تب بھی اس اعلان کو قائم رکھا جائے گا۔لیکن تین ماہ کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ آیا دوسرے فریق نے کوئی اصلاح کی ہے یا نہیں۔اگر اس کا رویہ درست ہو ایا ایسا اشتعال انگیز نہ ہوا کہ جس کی وجہ سے الزامی جوابات کی ضرورت پیش آئے تو پھر اس اعلان کی مدت کو لمبا کر دیا جائے گا۔ورنہ دوبارہ اعلان کر کے مجبوری کی وجہ سے اس اعلان کو منسوخ کر دیا جائے گا۔میں دوستوں کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی مصنف یا مؤلف یا مضمون نویس یا ایڈیٹر نے اس کے خلاف عمل کیا اور اس کے اس فعل کی طرف مجھے توجہ دلائی گئی تو میں تحقیقات کے بعد ایسے شخص کے خلاف اظہار نفرت کرنے پر مجبور ہوں گا۔پس میری محبت اور میری رائے کی قدر کرنے والے دوستوں کو اپنی تحریرات میں خود ہوشیار رہنا چاہئے۔میں اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہمیں آئندہ کبھی اس اعلان کو منسوخ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔مرزا محمود احمد اسی طرح مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے بھی اپنے رفقاء کے نام یہ اعلان شائع کیا کہ اس میں شبہ نہیں کہ ابتدائے اختلاف کا زمانہ ایک جوش کا زمانہ تھا۔جس میں زیادتی کے مقابل پر زیادتی کا بھی عذر ہو سکتا تھا لیکن اب وہ زمانہ باقی نہیں رہا اور اگر اب اختلاف باقی بھی ہے اور یہ اللہ تعالی کو علم ہے کہ کب تک باقی رہے گا۔تو مسائل پر بحث اسی طرح ہو سکتی ہے کہ جس طرح ہم دوسرے غلط عقائد پر بحث کرتے ہیں کسی عقیدہ کی غلطی کے اظہار کے لئے نہ کسی خاص شخص کو برا کہنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ اس پر کوئی ذاتی حملہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اس اعلان کے ذریعہ سے میں اپنے تمام احباب کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ آئندہ کے لئے ہماری تحریرات کی روش خواہ وہ اخبار میں ہوں یا رسالوں میں اس کے مطابق ہونی چاہئیں اور اس امر پر کہ کسی دوسرے پر کوئی حملہ نہ ہو یا اس کی دل آزاری نہ ہو۔ایک نیکی کا کام سمجھ کر اس خلق کو جو فی الحقیقت انبیاء کا خلق ہے۔اپنے اندر لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔مسائل اور عقائد پر بحث ضرور رہے گی۔لیکن اس میں کسی شخص کی