تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 595 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 595

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 560 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال کا اندازہ کیا کرتا ہوں کہ اس وقت تک زندہ رہنا میرے لئے جائز ہو سکتا ہے جب تک کہ قرض کی رقم کو جائداد بہ سہولت ادا کر سکے۔آگے اللہ تعالیٰ کے کام کا بندہ کو وہم و گمان بھی نہیں ہو تا۔غرض با وجود اس حالت کے اور اس رات اور دن کی پریشانی کے یہ روز مرہ کا دکھ مجھے زیادہ پسندیدہ معلوم ہوتا ہے یہ نسبت اس کے کہ میں کوئی رقم بیت المال سے بغیر قرضہ کے لوں اور کسی طرف سے میرے کان میں یہ آواز آئے کہ ان کو اس قدر رقم ملتی ہے۔اب بھی جبکہ میں کبھی کچھ نہیں لیتا میرے کانوں میں یہ آواز میں پڑی ہیں کہ خلیفہ کی اس قدر بیویاں ہیں۔اب ان کا خرچ جماعت پر پڑے گا۔اگر میں کوئی رقم لوں گا تو یہ آواز میرے لئے بالکل نا قابل برداشت ہوگی۔مومنوں کے نفوس خدا کے لئے قربانیاں ہیں۔کوئی کسی طرح قربان ہو جاتا ہے کوئی کسی طرح قربان ہو جاتا ہے"۔خاکسار مرزا محمود احمد - حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور مولوی حضرت خلیفه اسمی الثانی ایده الله تعالی و لوری میں ہی قیام فرما تھے کہ (حضرت) مولوی غلام محمد علی صاحب کے مشترکہ اعلانات حسن خان صاحب پشاوری، خان بہادر دلاور خاں صاحب اسٹنٹ کمشنر ) اور قاضی محمد شفیق صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جماعت احمدیہ کے دو فریقوں میں مصالحت کے لئے تبادلہ خیالات کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس تحریک مصالحت پر مولوی محمد علی صاحب مولوی غلام حسن خان صاحب خان بهادر محمد دلاور خاں وغیرہ کو اپنی کو ٹھی پر دعوت دی اور بالآخر طے پایا کہ اخبارات اور رسائل میں ایک دوسرے کے خلاف سب و شتم اور ذاتی حملوں کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔ہاں اختلافی مسائل پر متانت و شائستگی سے مضامین کا سلسلہ جاری رہے چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں ۱۷/ جولائی ۱۹۲۶ء کو مندرجہ ذیل اعلان فرمایا۔برادران! السلام علیکم۔میں اس اعلان کے ذریعہ تمام ایڈیٹران ، نامه نگاران و مصنفین سلسله احمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جو اختلافات سلسلہ میں کسی نہ کسی سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ان کی وجہ سے بعض دفعہ مبایعین بھی گو جوابا ہی کیوں نہ ہو ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔جن سے مسئلہ کی تحقیق پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔صرف دوسرے کی دلا زاری ہوتی ہے۔گو جوا با بعض دفعہ سختی کرنا ایک قسم کا علاج ہی ہوتا ہے لیکن موجودہ زمانہ میں جبکہ دنیا کی نگاہیں خاص طور پر ہماری طرف لگی ہوئی "