تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 594 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 594

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 559 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال تکلیف دہ ہے اور گھر کے لوگوں کے لئے موجب تشویش۔اس لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ سب اہل خانہ کو ساتھ لے کر جاؤں کیونکہ مکان بہر حال لینا ہو گا۔اور دو جگہ کے اخراجات بھی تکلیف دہ ہوں گے۔میں نے اندازہ کیا ہے۔۲ ہزار کے قریب زائد خرچ ہو گا۔اس میں سے ایک ہزار روپیہ کا مد متفرق غیر معمولی سے انتظام کر دیا جائے۔ایک ہزار کا میں انشاء اللہ بعض دوستو! یا سے انتظام کرلوں گا۔یہ روپیہ میں انشاء اللہ بجٹ کے خاتمہ سے پہلے ادا کر دوں گا۔تا سلسلہ کے کام کو نقصان نہ ہو چو نکہ اس سفر میں ترجمہ قرآن شریف اور ڈاک کا کام بھی ہو گا۔اس لئے مولوی محمد اسماعیل صاحب، صوفی عبد القدیر صاحب اور یحییٰ خان صاحب کے جانے کے متعلق بھی انتظام کیا جائے مکان تو میں نے لے ہی لیا ہے۔ان کے جانے اور آنے اور کھانے کے اخراجات اور کتب جو لے جانی پڑیں گی۔ان کے کرایہ کے انتظام کی ضرورت ہوگی۔میں نے اس سے پہلے کبھی یہ اخراجات اپنے سفروں میں نہیں لئے تھے۔بمبئی اور کشمیر میں مہمان نوازی اور اس قسم کی دوسری دفتری ضرورتوں پر ہمراہ سفر کرنے والوں پر میرا تین چار ہزار روپیہ سے زائد خرچ ہو ا تھا۔لیکن میں اب مقروض ہوں"۔اس تحریر پر صدرانجمن احمدیہ نے حضور کی خدمت میں عرض کیا۔کہ ”یہ بار بحیثیت امام جماعت ہونے کے حضور کو اٹھانا پڑتا ہے اس لئے مجلس کا حق ہے کہ حضور سے درخواست کرے کہ یہ بار حقیقتاً مجلس کے اٹھانے کا ابتداء ہی سے ہے۔اس لئے اس کے اٹھانے کی اجازت بخشی جائے"۔مگر حضور نے ایسی اجازت دینے سے انکار کر دیا او را ا/ جولائی ۱۹۲۶ء کو تحریر فرمایا۔" میں آپ لوگوں کی محبت کا ممنون ہوں۔مگر اول تو آپ لوگ خود میرے مقرر کردہ نمبر ہیں اور ہماری کانسٹی چیوشن کے لحاظ سے خلیفہ کو کوئی رقم دینے کا فیصلہ بذریعہ شوری کر سکتی ہے نہ کہ صدر المجمن احمدیہ۔اور یہ اصول کے خلاف ہے کہ ایک اپنی ہی قائم کردہ انجمن کسی شخص کی مالی امداد کا فیصلہ کرے۔دوسرے اس وقت تک قرض لے کر ادھار اٹھا کر گزارہ کرتا رہا ہوں۔دل میں یہی نیت ہے کہ خدا تعالٰی نے توفیق دی تو خود ادا کر دوں گا۔ورنہ جائیداد سے وصیت کر جاؤں گا صحت کی حالت بتاتی ہے کہ بہت گزر گئی اور تھوڑی رہ گئی۔اب اپنا طریق کیا بدلوں۔۔۔اور کسی کے لئے ٹھوکر کا موجب کیوں بنوں۔میری طبیعت اس قدر حساس ہے۔خصوصا مالی معاملات میں ایک حرف اعتراض کا خواہ اشد ترین منافق کی زبان سے کیوں نہ نکلا ہو کہ میرے قلب کو نا قابل تلافی صدمہ پہنچتا ہے۔اس وقت میری یہ حالت ہے کہ تمہیں آدمی کے قریب ہیں جن کا خرچ مجھے اٹھانا پڑتا ہے۔اور دو سو رد پیہ ماہوار کے قریب لائبریری اور امداد و غیرہ کا خرچ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ چار پانچ وقت کے کھانے میں سے ایک وقت کے سوا باقی سب قرض پر ہمارا گزارہ ہوتا ہے۔اپنی عمر کے لئے میں اپنی جائداد کی قیمت کی وسعت