تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 593
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 558 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال سے بعض کو زندہ کیا اور عرفان کی روشنی ڈال کر بعض سوتوں کو جگایا۔اب پنجاب بنگال سے ملنے کے لئے بے تاب ہے۔مگر اس کے راستے میں سد سکندری حائل ہے۔ہاں کفر کی دیوار اس کے اور بنگال کے درمیان کھڑی ہے وہ دیوار جسے پٹھانوں اور مغلوں کی چھ سو سالہ حکومت بھی تو ڑ نہیں سکی۔اسلام نے اپنی نشوو نما کے لئے پنجاب اور بنگال کو چنا تھا۔اسی طرح احمدیت نے بھی پنجاب اور بنگال کو چنا ہے مگر درمیانی علاقے خالی ہیں بادشاہتیں اس دیوار کو توڑ نہیں سکیں۔لیکن دو محبت کرنے والے دل اس روک کو اٹھانے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔اٹھو اے بھائیو ! محبت سے پر دلوں کو لے کر اٹھو۔بادلوں کی طرح اٹھو جو سب ملک کو ایک آن میں سیراب کر جاتے ہیں۔آندھیوں کی طرح اٹھو جو سب خس و خاشاک کو ایک منٹ میں اڑا دیتی ہیں۔سیلاب کی طرح اٹھو جو مکانوں، قصبوں اور شہروں کو اپنے آگے بہا کر لے جاتا ہے۔ہاں۔ہاں۔سورج کی طرح بلند ہو جس کی روشنی تمام تاریکیوں کو مٹادیتی ہے اور خدا تعالیٰ کے پیغام کو اپنے ملک میں پھیلاتے ہوئے دریائے گنگا کے کنارے کنارے اس علاقہ کی طرف آجاؤ۔جہاں ہے کہ آپ لوگوں کے آباء نے مشرق کا رخ کیا تھا"۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا سفر ڈلہوزی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کی شبانہ روز مصروفیات نے آپ کی صحت پر بہت اثر ڈالا اور سالانہ جلسہ ۱۹۲۵ء کے بعد آپ روز بروز کمزور ہو رہے تھے۔اس لئے ڈاکٹری مشورہ کے ۲۰۵ مطابق آپ تبدیلی آب و ہوا کے لئے ۲۹/ جولائی ۱۹۲۶ء کو مع اہل و عیال ڈلہوزی تشریف لے گئے اور / اکتوبر ۱۹۲۶ء کو وارد قادیان ہوئے۔اس سفر میں حضور نے ترجمہ قرآن شریف اور ڈاک کا کام بدستور جاری رکھا اور اس غرض کے لئے حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب حلالپوری صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے (پرائیوٹ سیکرٹری) اور سینی خان صاحب ہمراہ گئے۔نیز طبی مشورہ کے لئے ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب بھی جنہیں ہمیشہ آپ کے اکثر سفروں میں ہمرکاب رہنے کا شرف حاصل رہا ہے۔سفر ڈلہوزی کے حالات میں اس امر کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے کہ حضور اپنے زمانہ خلافت کے آغاز سے لے کر اب تک ڈاک اور دوسری دفتری ضرورتوں پر سفر کرنے پر کارکنان سلسلہ کے اخراجات اپنے پاس سے ادا فرماتے آرہے تھے۔مگر اب اپنی کمزور مالی حالت کے پیش نظر آپ نے پہلی بار صدر انجمن احمدیہ کو لکھا کہ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ میں آب و ہوا کی تبدیلی کروں۔اب تک تو میں بوجہ مالی کمزوری کے اس کو ٹلاتا رہا ہوں مگر اب چونکہ کمزوری زیادہ ہوتی جارہی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس کا تجربہ بھی کرلوں۔چونکہ اس حالت میں میں اکیلا سفر نہیں کر سکتا۔کیونکہ یہ میرے لئے بھی