تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 592 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 592

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 557 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال جو ان کے کام کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں انہوں نے اتنے سال کام کر کے جماعت کے اندر ایک بیداری پیدا کر دی ہے کہ اب جماعت کے افراد کو بھی محسوس ہونے لگ گیا ہے۔۔۔یتیم کی خدمت اور اس کی صحیح رنگ میں تعلیم و تربیت اتنا اہم کام ہے کہ کوئی جماعت جو زندہ رہنا چاہتی ہے وہ کسی صورت میں بھی اس کو نظر انداز نہیں کر سکتی لی۔۔۔حضرت میر صاحب کی وفات کے بعد جو (۱۷/ مارچ ۱۹۴۴ء کو ہوئی) جہاں سلسلہ کے دوسرے علمی اور انتظامی معاملات میں زبر دست خلا پیدا ہو گیا وہاں دار الشیوخ کے انتظام کو بھی سخت دھکا لگا۔اور اگر چہ صدر انجمن احمدیہ کا مستقل صیغہ قرار دے کر اس کے اخراجات کی ذمہ داری براہ راست real مرکزی نظم و نسق کے سپرد ہو گئی۔مگر یہ ادارہ قادیان میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکا۔قصر خلافت کی بنیاد ۱۲۲ مئی ۱۹۲۹ء کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس روز حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنے دست مبارک سے (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کی نشستگاہ اور سید ناصر شاہ صاحب کے مکان کے درمیان قطعہ زمین پر) قصر خلافت کی بنیاد رکھی۔اور مجمع سمیت دعا فرمائی۔اس کے بعد احباب حضرت صاحبزادہ صاحب کے دیوان خانے میں جمع ہوئے جہاں شیرینی تقسیم کی گئی اور یہ مبارک تقریب ختم ہوئی - قصر خلافت کی عمارت اکتوبر ۱۹۲۶ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی جس کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی سے ملاقات اور آپ کی ڈاک کا پہلے سے زیادہ عمدہ اور محفوظ انتظام ہو گیا۔احمدیہ گزٹ کا اجراء جماعت احمدیہ کی مختلف انجمنوں اور افراد سلسلہ کو ایک باقاعدہ صورت میں سلسلہ کے مرکزی صیغوں کی کارگزاری اور اعلانات سے باخبر رکھنے کے لئے ۲۶/ مئی ۱۹۲۶ء سے "احمدیہ گزٹ " کا اجراء ہوا۔اس اہم پرچہ کی عنان ادارت حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کے سپرد ہوئی۔"احمدیہ گزٹ " چند سال کے بعد بند کر دیا گیا اور یہ کام بھی حسب سابق الفضل ہی بجالانے لگا۔بنگالی احمدیوں نے بنگلہ زبان میں ”احمدی" حضرت امام کا پیغام احمدیان بنگال کے نام کے نام سے ایک رسالہ جاری کر رکھا تھا۔حضرت خلیفتہ ا خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے اس پرچہ کے نئے سال کے پہلے نمبر کے لئے "جماعت احمدیہ بنگال کے نام ایک پیغام ارسال کیا۔جس میں تحریر فرمایا کہ۔"سنو اے فرزندان بنگال اخد اتعالیٰ کا مسیح مغرب ہند میں نازل ہوا اور وہ شوق محبت سے آپ لوگوں کی طرف جو مشرق ہند کے بسنے والے ہیں بڑھا اور اس نے زندگی کا پانی چھڑک کر آپ لوگوں میں