تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 585
تاریخ احمدیت جلد ۴ 550 خلافت انسان پر کھلتی ہے کہ وہ آسمانی طب جو انسانوں کو گناہوں سے نجات دے کر نیکیوں کی طرف مائل کرتی اور پھر ان پر دوام بخشتی ہے صرف اور صرف خدا کے انبیاء و خلفاء ہی کو عطا ہوتی ہے کیونکہ وہی آسمانی حکم کے نمائندے ہونے کی حیثیت سے صحیح معنوں میں مزکی و معلم ہوتے ہیں۔حضور نے اپنے لیکچر کے خاتمہ پر جماعت احمدیہ کو نصیحت فرمائی۔کہ اگر ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اولیاء اللہ میں سے نہ ہو تو دنیا کو نجات نہیں دلائی جاسکتی۔اور ہم دنیا میں کوئی تغیر نہیں پیدا کر سکتے یاد رکھو ہمارا مقابلہ دنیا کی موجودہ بدیوں سے نہیں بلکہ ہمارا فرض خیالات بد کی رو سے مقابلہ کرنا بھی ہے اور ہمیں خیالات کے اس دریا کا مقابلہ کرنا ہے جو ہر طرف لہریں مار رہا ہے۔بہت ہی نازک ہے"۔۱۹۲۵ء کے متفرق مگر اہم واقعات ! - حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حرم اول میں مرزا حفیظ احمد صاحب پیدا ہوئے۔ڈنمارک کی دو خواتین (ڈاکٹر کا زنند اور مس پالی) سلسلہ احمدیہ کی تحقیق کے لئے قادیان آئیں - حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے لنڈن سے واپسی پر مصر ٹھر گئے تھے ۱۹/ جنوری ۱۹۲۵ء کو بخیریت قادیان تشریف لے آئے۔- سیدنا حضرت مسیح موعود کے صحابی حضرت منشی ہاشم علی صاحب ۲۸ مارچ ۱۹۲۵ء کو اور حضرت مولوی نظام الدین صاحب ( والد حضرت مولوی شیر علی صاحب) ۱۲۳ جون ۱۹۲۵ء کو 197 رحلت فرما گئے۔مولانا ابو العطاء صاحب فاضل نے یکم مارچ ۱۹۲۵ء کو انجمن احمد یہ خدام الاسلام" قائم کی جس کا مقصد اشاعت اسلام و احمدیت تھا۔اس انجمن نے تبلیغی ٹریکٹوں کا مفید سلسلہ جاری کیا جو ایک عرصہ تک جاری رہا۔لنکا کے گمپولا نام قصبہ میں ایک احمدی عورت کا انتقال ہو گیا۔غیر احمدی مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں دفن کئے جانے کی مخالفت کی جس پر پولیس کی نگرانی میں میت دفن کی گئی۔ایک عرب سیاح محمد سعد الدین صاحب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی ملاقات کے لئے قادیان آئے - اکتوبر ۱۹۲۵ء میں مزار حضرت مسیح موعود کے ارد گرد پختہ چار دیواری تعمیر ہوئی اور اس کے چاروں طرف دروازے رکھے گئے۔چار دیواری بنانے کے لئے ملک صاحب خان صاحب نون