تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 584
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 549 چاہئے۔یہ ظلم اس لحاظ سے اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ پچھلی جنگ میں اہل شام نے اتحادیوں کی مدد کی اور اس غرض سے مدد کی کہ انہیں اپنے ملک میں حکومت کرنے کی آزادی دی جائے گی۔پھر کتنا ظلم ہے کہ اب ان کو غلام بنایا جاتا ہے۔وہ ملک جو تلوار کے ذریعہ زیر نہ کئے جائیں بلکہ معاہدات کی رو سے سیاست اور علم کا چر چانہ ہونے کے سبب جن کی تربیت کرنے کا ذمہ لیا جائے۔کیا ان کی یہی حالت ہونی چاہئے کہ انہیں بالکل غلام بلکہ غلاموں سے بھی بد تر بنانے کی کوشش کی جائے انہیں ہر طرح تکلیف دی جائے اور بجائے مدد کرنے کے ان کو نقصان پہنچایا جائے پس نہ انگریزوں کا اور نہ کسی اور سلطنت کا حق ہے کہ وہ شامیوں کے ملک پر حکومت کریں اور نہ ہی فرانسیسیوں کا حق ہے کہ وہ ملک پر جبرا قبضہ رکھیں۔شامیوں نے اتحادیوں کی مدد کی اور انہیں فتح دلائی جس کا بدلہ یہ ملا کہ فرانسیسیوں نے ان کے ملک کو تباہ اور ان کے گھروں کو ویران کر دیا۔اس سے زیادہ غداری کیا ہو سکتی ہے کہ جس نے ان کو فتح دلائی اسے ہی غلامی کا حلقہ پہنایا جاتا ہے"۔نیز اہل شام سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے فرمایا۔"شام والے مظلوم ہیں اور ان کی وفاداریوں اور جانبازیوں کا اچھا صلہ ان کو نہیں دیا گیا۔انہوں نے اپنی جانیں دے کر اتحادیوں کو فتح دلانے کی کوشش کی۔مگر جب ان کی باری آئی تو بجائے حسن سلوک کے ان پر ظلم کیا گیا۔ان کی جائیں تباہ کی گئیں ان کا ملک ویران کیا گیا۔ان کے مال برباد کئے گئے۔پس وہ مظلوم ہیں اور میں ان مظلوموں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہوں۔۔۔۔میں ان لوگوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں جنہوں نے قوم کی حریت اور آزادی کے لئے کوشش کی۔اور اس کے لئے مارے گئے۔پھر میں ان لوگوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں جو زندہ ہیں اور اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ تباہی سے بچیں اور کامیاب ہوں "۔الحمد للہ کہ حضور کی یہ دعا جناب الٹی میں قبول ہوئی اور بالآخر فرانسیسی تسلط ختم ہوا اور ۱۷/ ستمبر ۱۹۴۱ء کو شام میں مسلمانوں کی آزاد حکومت قائم ہوئی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۵ء پر گناہوں سے پاک ہونے ۱۵۹ منهاج الطالبین" اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کے طریق پر دو دن تک علمی لیکچر دیا۔حضور نے اس مضمون کا عنوان اپنی ایک بہت پرانی رویا کی بناء پر ”منہاج الطالین" رکھا - " منہاج الطالبین " اسلامی اخلاق و تصوف کے لطیف اور باریک مسائل کا انسائیکلو پیڈیا اور روحانی بیماریوں کے علاج کی بیاض ہے جس میں امراض روح و قلب کی تشخیص اس کے اسباب اور اس کے علاج کے علاوہ صحت روحانی میں ترقی کرنے کے مجرب علمی و عملی نسخے درج ہیں۔اس لیکچر کے مطالعہ سے یہ حقیقت