تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 580
تاریخ امر جلد 545 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال عیسائیوں کو اسلام کی طرف کھینچا ہے "۔ایم اے آر کب اپنی کتاب (Mohammadanism) ایڈیشن جولائی ۱۹۵۵ء آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے صفحہ ۱۴۲ پر لکھتے ہیں۔" جماعت احمدیہ قادیان- انڈونیشیا جنوبی - مشرقی اور مغربی افریقہ میں عیسائی مشنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے "۔جسٹس دان ڈیر کو دوف دی مسلم ورلڈ " (جنوری ۱۹۶۲ء) کی اشاعت میں لکھتے ہیں۔انڈونیشیا کے ایک مشہور پبلشر نے مجھے بتایا کہ انڈونیشیا کا نوجوان علمی طبقہ جماعت احمدیہ کا لٹریچر بڑے شوق کے ساتھ خریدتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ انڈونیشیا کے بڑے جزائر میں احمدی موجود ہیں بلکہ دور افتادہ علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔اگر چہ غالب اکثریت قادیانی احمدیوں کی ہے تاہم ان دونوں احمد یہ فرقوں کا وجود مغربی تعلیم یافتہ نوجوانوں میں احیاء اسلام کا زبردست محرک ہے۔جماعت احمدیہ کا اثر ہندوستان سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل رہا ہے۔اس کی شاخیں اور اس کا لٹریچر دنیا کے ہر گوشے میں پہنچ چکا ہے یورپ اور امریکہ کے لوگ اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے مبلغ بھی تمام ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کر رہے ہیں یورپ اور باقی علمی دنیا میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی ایک خاص اہمیت کی حامل ہیں اور اپنے اس امتیاز کے باعث ہم اس کے معترف اور ممنون ہیں۔(نیشنل فرنٹ نیوز آف انڈونیشیا ۲۰/ دسمبر ۱۹۶۲ء) ہندوستان میں یہ دلخراش خبر پہنچی کہ (حضرت) مقامات مقدسہ کی بے حرمتی پر احتجاج محمد بن عبد الوہاب " کے معتقدین کی گولہ باری سے رسول کریم ا کے روضہ اطہر کے گنبد کو نقصان پہنچا جس سے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی ہیں ساتھ ہی یروشلم کی مسلم کو نسل کے صدراعلیٰ کی طرف سے تار آیا کہ صحیح خبر یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ اطہر پر گولہ باری نہیں کی گئی البتہ اس کے گنبد پر گولیاں لگی ہیں۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۴ / ستمبر ۱۹۲۵ء کو رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔یہ تو مانا نہیں جا سکتا کہ نجدیوں نے جان بوجھ کر روضہ مبارک مسجد نبوی اور دیگر مقامات مقدسہ پر گولے مارے ہوں گے کیونکہ آخر وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اور آپ کی عزت و توقیر کا بھی دم بھرتے ہیں لیکن باوجود ان سب باتوں کے جو کچھ ہوا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گو انہوں نے دیدہ دانستہ مقامات مقدسہ کو