تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 579
تاریخ جلد ۴ 544 خلافت ثانیہ کا بارھواں نے اسلام کو کیوں چنا۔قیامت - جہاد - لائحہ عمل احمدیہ (تصانیف مولوی محمد صادق صاحب )(۱) بائیل کا یسوع - (۲) محمد ال از روئے بائبل (۳) تصدیق اسبیح۔(تصانیف ملک عزیز احمد خان صاحب) ترقی اسلام کی راہ مبایعین اور غیر مبایعین میں فرق - پیشگوئی متعلقہ مصلح موعود- (تصانیف میاں عبدالحی صاحب) "کفاره" (تصانیف مولوی ابو بکر صاحب) مکمل تردید (جماعت کے خلاف اعتراضات کارد) شفاعت ارحم الراحمین۔(تصانیف صالح الشبيبي صاحب الهندی) وادی قمران کے صحیفے۔احمدیت پر ایک طائرانہ نظر - نماز مترجم - جماعت احمد یہ انڈونیشیا کی طرف سے اس وقت تک کئی ماہواریا سہ ماہی رسائل نکل چکے ہیں مثلاً رسالہ " اسلام " (ماہوار) رسالہ "البشری " (ماہور) رسالہ " نو جوک جاسن " (ماہوار) رساله الهدی (ماہوار) رسالہ "Bale bat " (ماہوار رسالہ " آواز مجلس خدام الاحمدیہ " ( سہ ماہی) رسالہ " آواز مجلس انصار الله" (سہ ماہی) رسالہ "آواز مجلس ناصرات الاحمدیہ " (سہ ماہی) آج کل رساله سمینار اسلام اور ہفتہ وار ” ہلٹن یا احمد یہ گزٹ " با قاعدہ جاری ہے۔" انڈو نیشیا میں اس وقت مندرجہ ذیل مبلغین اعلائے کلمہ اسلام میں مصروف ہیں۔سید شاہ محمد صاحب (رئیس (تبلیغ) مولوی ابوبکر ایوب صاحب مرکزی مبلغ مولوی عبدالحی صاحب مرکزی مبلغ مولوی امام الدین صاحب مرکزی مبلغ مولوی صالح شبیبی صاحب مرکزی مبلغ مولوی عبد الواحد صاحب مرکزی مبلغ مولوی محمد ایوب صاحب لوکل مبلغ مولوی زینی دحلان صاحب مولوی منصور احمد صاحب را زین احمد نور صاحب مولوی احمد رشدی صاحب مولوی سلیمان عباس صاحب مولوی محی الدین صاحب حاجی بصری صاحب دیہاتی مبلغ محمد شتری صاحب دیہاتی مبلغ۔سلیمان صاحب دیہاتی مبلغ - عبد الرحمن صاحب دیہاتی مبلغ۔اس دار التبلیغ کی اسلامی خدمات کی نسبت دوسروں کی چند آراء بطور نمونہ درج ذیل کی جاتی ہیں۔• ا سفیر انڈو نیشیا الحاج محمد رشید صاحب نے تمرے ۱۹۵ ء میں ایک پبلک جلسہ میں جماعت احمدیہ کی انڈونیشیا میں اسلامی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انڈو نیشین قوم جو عیسائیت کے سیلاب کے آگے بہہ جارہی تھی اس کو جماعت احمدیہ کے مبلغین نے اس خطرہ سے بچالیا 21 سلسلہ احمدیہ کے ایک شدید مخالف ڈاکٹر حاجی عبدالکریم امر اللہ نے اپنی کتاب القول الصحيح" میں لکھا کہ "ہم روئے زمین کے مسلمانوں کی طرف سے جماعت احمد یہ قادیان کا اس بارہ میں شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر یورپین ممالک میں کئی