تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 577 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 577

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 542 خلافت عثمانیہ کا بارھواں سال مبلغوں کو قبل از وقت اطلاع دے دی گئی تھی۔۱۴۵ جاپانی حکومت کا خاتمہ ہوا تو ڈاکٹر سکارنو نے ۱۷/ اگست ۱۹۴۵ء کو انڈونیشیا کی آزادی کا اعلان کر دیا اور ولندیزیوں کے خلاف سارے ملک میں تحریک آزادی لڑی جانے لگی۔اس موقعہ پر مبلغین احمدیت اور دوسرے احمدیوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر تحریک آزادی میں بھی سرگرم حصہ لیا۔چنانچہ مولوی عبد الواحد صاحب اور ملک عزیز احمد صاحب نے تقریبادو تین ماہ ریڈیو پر اردو پروگرام نشر کیا۔اور سید شاہ محمد صاحب تو تحریک میں اس جوش و خروش سے شامل رہے کہ انڈونیشیا کے ایک سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم سید شاہ محمد صاحب کو اپنی قوم کا ہی فرد سمجھتے ہیں چنانچہ ۱۹۴۹ء میں جس روز صدر ڈاکٹر سکار نو ڈچ حکومت سے چارج لینے کے لئے جن چودہ آدمیوں کے ہمراہ دارالحکومت میں پہنچے تو ان میں سید شاہ محمد صاحب بھی تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے ۱۹۴۸ء میں جبکہ انڈو نیشیا کی جنگ آزادی جاری تھی۔مولوی محمد سعید صاحب انصاری کو سماٹرا بھیجوایا۔نومبر ۱۹۴۹ء میں جماعت کی از سرنو تنظیم کرنے کے لئے مولوی رحمت علی صاحب کی صدارت میں تمام مبلغین کا پہلا اجتماع منعقد ہوا۔اس اجتماع میں جماعت احمدیہ انڈونیشیا کے لئے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی گئی جس کے ممبر سید شاہ محمد صاحب مولوی عبد الواحد صاحب سماٹری اور ملک عزیز احمد صاحب تھے اور معاون مسٹر راڈین ہدایت۔انڈونیشین زبان میں قواعد مرتب ہوئے تو 9-10-11/ دسمبر کو جماعت ہائے انڈو نیشیا کی پہلی سالانہ کانفرنس جا کر تا میں منعقد ہوئی۔جس کا سلسلہ (ایک سال کے وقفہ کے ساتھ) اب تک خدا کے فضل سے جاری ہے۔مولوی رحمت علی صاحب ۳۰/ اپریل ۱۹۵۰ء کو واپس تشریف لائے اسی سال مولوی امام الدین صاحب، مولوی عبدالحی صاحب مولوی محمد زیدی صاحب اور حافظ قدرت اللہ صاحب اور دو سال بعد حکیم عبدالرشید صاحب ارشد بھی ان علاقوں میں تبلیغ کے لئے بھیجے گئے۔ان کے بعد حضور نے ۶/ جون ۱۹۵۴ء کو صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب کو مع اہل و عیال انڈو نیشیا روانہ فرمایا۔صاحبزادہ صاحب نے وہاں ملک میں پھیلی ہوئی جماعتوں کا دورہ کر کے ان میں غیر معمولی بیداری پیدا کی اور ۲۲/ مارچ ۱۹۵۶ء کو واپس تشریف لائے۔۱۹۵۴ء کے سالانہ جلسہ میں شمولیت کے لئے جماعت ہائے انڈونیشیا کے وائس پریذیڈنٹ راڈین ہدایت صاحب ربوہ آئے تو واپسی پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے انڈو نیشیا کی جماعتوں کے اخلاص اور قربانی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک کی لکھی ہوئی ایک تحریر جو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے اور "حقیقتہ الوحی" کے مسودہ کا IA