تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 576
541 جن میں مولوی محمد صادق صاحب اور مولوی ابو بکر صاحب کے علاوہ آپ نے بھی لیکچر دئیے سماٹرا میں ایک مبلغ نا کافی تھا۔اس لئے مولوی ابو بکر صاحب جو پہلے جاوا میں کام کر رہے تھے سارا میں فریضہ تبلیغ انجام دینے لگے۔اسی اثناء میں ۸ مارچ ۱۹۴۲ء کو جاپانیوں نے جزائر شرق الہند پر قبضہ کر لیا اور مشکلات اور تکالیف کا ایک نہایت المناک سلسلہ شروع ہوا۔قبضہ کے دوران جاپانیوں نے ملکی باشندوں پر جو وحشیانہ مظالم تو ڑے وہ نہایت ہی درد ناک تھے۔ایک جماعت کے سوا جسے حکومت نے اپنی سیاسی اغراض کے لئے قائم کیا تھا باقی سب سیاسی اور مذہبی تنظمیں حکما بند کردیں۔تاہم انفرادی تبلیغ جاری رہی اور اس عرصہ میں جماعت کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔اس زمانہ میں احمدی مبلغین نے جن میں مولوی رحمت علی صاحب اور ملک عزیز احمد خان خاص طور پر قابل ذکر ہیں مختلف کتابوں کے تراجم کئے جو بعد کو شائع ہوئے۔جاوا اور کاٹرا کے علماء نے جنوب مشرقی ایشیا کی اس جاپانی لڑائی کو جہاد فی سبیل اللہ قرار دیا اور مخبری کی کہ احمدی انگریزوں کے جاسوس ہیں۔چنانچہ جاپانی حکام نے مولوی محمد صادق صاحب کی بارہا پوچھ کچھ کی اور بالآخر تبلیغ کی ممانعت کر دی۔اس پر مولوی محمد صادق صاحب نے حکومت جاپان کو مفصل خط لکھا جس میں احمدیت کی غرض وغایت پر روشنی ڈالنے کے علاوہ خاص طور پر اس طرف توجہ دلائی کہ جاپان حکومت کی لڑائی ہرگز جہاد فی سبیل اللہ نہیں اس کی علمبردار صرف مسلمان قوم ہو سکتی ہے اور آپ مسلمان نہیں۔جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے جس میں مولوی محمد صادق صاحب بھی شامل تھے جاپانی حکومت کے گورنر آف سکاٹرا کے سامنے یہ خط پیش کیا۔جاپانی حکومت نے اس سے سخت برافروختہ ہو کر مولوی محمد صادق صاحب کو سزائے موت کا حکم صادر کر دیا۔اس کے بالمقابل جاوا کے احمدی مبلغین جاپانی حکومت نے قید میں ڈال دیئے جس کی وجہ یہ ہوئی کہ ۱۹۴۴ ء میں مغربی جاوا کے ایک مقام پر بغاوت ہوئی۔بعض مقامی علماء نے جاپانی حکام سے کہا کہ بغاوت میں احمدیوں کا ہاتھ ہے اس شکایت پر بعض دوسرے احمدیوں کے علاوہ ملک عزیز احمد خاں، مولوی عبد الواحد صاحب سماٹری اور سید شاہ محمد صاحب گرفتار کر لئے گئے۔غرض کہ جاوا اور سماٹرا زونوں جگہ صرف احمدی جماعتیں اور احمدی مبلغین جاپانی مظالم کا نشانہ بنائے گئے اور بظا ہر نجات کی کوئی صورت باقی نہ رہی۔مگر اس سے پہلے کہ جاپانی اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتے اس ظالم حکومت کا تختہ الٹ گیا۔اور قدرت اللی کا یہ عجیب کرشمہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے اس انقلاب کی نسبت احمدی