تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 573
ت جلد ۳ 538 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال تحریر فرماتے ہیں۔" اس قسم کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح کی مردم شناس آنکھ نے مولوی رحمت علی صاحب کو منتخب کیا۔مولوی صاحب مولوی فاضل تھے۔مگر سادہ مزاج رکھتے تھے اور بعض حلقوں میں خیال کیا جاتا تھا کہ شاید وہ اس نازک کام میں کامیاب نہ ہو سکیں مگر خدا تعالی کے فضل سے اور حضرت خلیفتہ المسیح کی روحانی توجہ کے طفیل اس مشن نے حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی اور بعض لحاظ سے دو سرے سب مشنوں کو مات کر گیا "۔مولوی رحمت علی صاحب ۱۷/ اگست ۱۹۲۵ء کو قادیان سے روانہ ہوئے۔حضور نے آپ کو رخصت کرتے ہوئے کئی نصیحتیں فرما ئیں۔مثلاً علم کا گھمنڈ رکھنے والوں اور علماء سے خلوت میں گفتگو کریں۔تبلیغ کا کام بتدریج ہو۔جہاں جہاں جماعتیں قائم ہوں وہاں انجمن بھی قائم کریں اور انجمن کو با قاعدہ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے احمدیوں میں تبلیغ کی عادت بھی پیدا کریں اور عمدہ نمونہ ہیں۔تالوگ احمدیت کی حقیقت سمجھ سکیں۔مولوی رحمت علی صاحب احمدیت کا پیغام لے کر ستمبر ۱۹۲۵ء میں اس ملک میں پہنچے اور سب سے پہلے سماٹرا کے قصبہ " تاپک تو ان میں فروری ۱۹۲۷ء تک قیام کیا۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے وہاں ایک جماعت پیدا کر دی۔" تاپک تو ان میں احمدیت کا بیج بو دینے کے بعد آپ مارچ ۱۹۲۷ء میں پاڑانگ گئے۔اور وہاں اپنا مرکز قائم کر کے ایک رسالہ " اقبال " نامی جاری کیا۔اور پبلک لیکچروں ، اخبارات اور انفرادی ملاقاتوں سے عوام اور حکومت دونوں حلقوں میں تبلیغ شروع کر دی۔علماء نے احمدیت کا اثر و نفوذ دیکھا تو وہ متفقہ طور پر آپ کو ملک سے نکالنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن حکام نے مذہبی معاملات میں دست اندازی کرنے سے انکار کر دیا۔اسی دوارن میں قادیان سے حاجی محمود احمد صاحب بھی علم دین حاصل کرکے پہنچ گئے اور آپ کا ہاتھ بٹانے لگے۔مسلمانوں میں تبلیغ کے علاوہ عیسائیت کے خلاف بھی محاذ قائم کیا گیا اور عیسائی پادریوں سے متعدد مذاکرات و مباحثات ہوئے۔دسمبر ۱۹۲۷ء کے آخر میں پاڈانگ میں غیر احمدی علماء سے آپ کا ایک عظیم الشان مباحثہ ہوا یہ مناظرہ مولوی رحمت علی صاحب کے الفاظ میں احمدیت کی حیات و موت اور ترقی و تنزل کا سوال تھا۔بڑے بڑے علماء مشائخ ایڈیٹر اور عہدیداران حکومت اس میں موجود تھے۔علماء کو مناظرہ میں سخت ناکامی اٹھانا پڑی اور تحقیق پسند طبائع پر سلسلہ کی حقانیت کھل گئی۔اور گو اس کے نتیجہ میں ایک کثیر طبقہ احمدیت کا دل سے قائل ہو گیا۔مگر علماء کی سختیوں کی وجہ سے علی الاعلان صداقت کا اظہار نہ کر سکا۔