تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 572
537 خلافت ثانیہ کا بار حواں سال چھٹا باب (فصل سوم) ۱۹۲۵ء میں سلسلہ احمدیہ کا ایک اور بیرونی مشن جزائر شرق السند دار التبلیغ سماٹر او جادو کا قیام (یعنی انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا میں قائم کیا گیا۔اس دار التبلیغ کی داغ بیل اتفاقا پڑی جس کی تفصیل یہ ہے کہ ان جزائر میں سے تین نوجوان مولوی ابو بکر ایوب صاحب مولوی احمد نور الدین صاحب اور مولوی زینی دحلان صاحب حصول علم دین کے لئے لکھنو پہنچے اور وہاں ایک عالم سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی جہاں ان لوگوں نے دیکھا کہ ان کا استاد اپنے کسی استاد یا پیر کی قبر پر سجدہ کر رہا ہے یہ نظارہ دیکھ کر تینوں لکھنو سے لاہور آگئے اور چند ماہ تک احمد یہ بلڈ نگس میں قیام کیا۔مگر ان کی تعلیم کا کوئی تسلی بخش انتظام نہ ہو سکا۔اسی اثناء میں انہیں یہ معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان قادیان میں مقیم ہے۔چنانچہ یہ مینوں اصحاب اگست ۱۹۲۳ء میں قادیان تشریف لے گئے اور حضور کی خدمت میں حاضر ہو کرتا یا کہ ہم دینی تعلیم کے لئے آئے تھے۔مگر ہمارا کوئی معقول انتظام نہیں کیا گیا۔حضور نے فرمایا میں دینی تعلیم کا انتظام کر سکتا ہوں مگر شرط یہ ہوگی کہ آپ چھ ماہ تک صرف اردو زبان پڑھیں چنانچہ انہوں نے پہلے اردو سیکھی اور پھر دینیات کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔اور جلد ہی احمدیت میں داخل ہو گئے۔کچھ عرصہ بعد ان کی مساعی سے کئی اور سماٹری اور جاری طلباء قادیان میں پہنچ گئے۔ساتھ ہی ان لوگوں نے اپنے رشتہ داروں سے تبلیغی خط و کتابت شروع کی۔جس کے نتیجہ میں بعض لوگ تو حضرت مسیح موعود پر اسی عرصہ میں ایمان لے آئے بعض مستعد ہو گئے اور بعض نے مخالفت کا رنگ اختیار کیا اور بحث شروع کر دی۔ان حالات نے ان طلبہ کو تبلیغ کی طرف اور بھی متوجہ کر دیا۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جب سفر یورپ سے واپس تشریف لائے تو انہوں نے ۲۹/ نومبر ۱۹۲۴ء کو حضور کے اعزاز میں ایک دعوت دی اور مخلصانہ ایڈریس پیش کر کے استدعا کی کہ حضور مغرب کی طرف تشریف لے گئے ہیں اب از راہ شفقت مشرق کی طرف بھی تشریف لے چلیں حضور نے وعدہ فرمایا کہ انشاء اللہ میں خود یا میرا کوئی نمائندہ آپ کے ملک میں جائے گا۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جزائر شرق الہند کے لئے مولوی رحمت علی صاحب فاضل کو پہلا مبلغ احمدیت مقرر فرمایا۔قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنی مشہور کتاب "سلسلہ احمدیہ " میں