تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 571 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 571

تاریخ احمدیت جلد ۴ 536 خلافت ثانیہ کا بار ھوا مسلمانوں کی تجارتی ترقی کے لئے " مسلم چیمبر آف کامرس " اور " بورڈ آف انڈسٹریز - قائم | مکه کان کئے جائیں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنا یہ ٹریکٹ دے کر میر محمد اسحاق صاحب مفتی محمد صادق صاحب ذو الفقار علی خان صاحب چوہدری فتح محمد صاحب سیال، حافظ روشن علی صاحب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو امر تسر بھجوایا۔ان اصحاب نے یہ ٹریکٹ کانفرنس میں تقسیم کیا۔جو بہت دلچسپی سے پڑھا گیا۔اس موقعہ پر علمائے دیوبند جمعیتہ العلماء اور امرتسری علماء نے کانفرنس میں احمدیوں کی شرکت پر سخت مخالفت کی۔اور مسجد جامع خیر الدین میں تقریر میں ئیں اور اشتہار دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو کافر ہیں۔اس لئے اگر وہ کانفرنس میں شامل ہوں گے۔ہم کا نفرنس کا بائیکاٹ کریں گے۔لیکن ان کی یہ جد وجہد کامیاب نہ ہوئی اور احمدی وفد نے کانفرنس میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اس کے ارکان سبجیکٹ کمیٹی کے ممبر بھی منتخب کر لئے گئے۔علماء کی روش پر مولوی محمد بشیر الدین صاحب ایڈیٹر اخبار "البشیر " (اٹادہ - یو پی) نے اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھا۔اس اجلاس کی مخالفت جمعیتہ العلماء اور علماء دیوبند کی جانب سے اس بنیاد پر ہوئی کہ چونکہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔لہذا اگر ان کو آل مسلم پارٹیز کانفرنس میں شریک کیا جاوے گا تو ہم اس کانفرنس میں شریک نہ ہوں گے اپنی عدم شرکت پر ان اصحاب نے اکتفاء نہیں کیا بلکہ شہر امرتسر میں بہ زمانہ کا نفرنس بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے۔جن میں دوسرے مسلمانوں کو بھی شرکت کانفرنس سے باز رکھنے کی کوشش کی گئی۔خواہ قادیانی جماعت کی نسبت ہمارے کچھ بھی خیال ہوں۔اور اگر چہ ہم اس کو پسند نہیں کرتے کہ مسلمانوں کا کوئی فرقہ نذہبی حیثیت سے دوسرے فرقہ کو کافر سمجھے لیکن آل مسلم پارٹیز کانفرنس کا مقصد زیادہ ترسیاسی یا مسلمانوں کی قوم کی اندرونی اصلاح اور وسائل معاش پر فکر کرنا تھا لہذا محض اختلافی مسائل مذہبی کی بنیاد پر مسلمانوں کو کسی جماعت کو کافر سمجھ کر اس امر پر اصرار کرنا کہ اگر فلاں جماعت کے اصحاب اس میں شریک ہوں گے تو ہم اس میں شریک نہ ہوں گے نہایت تنگ نظری اور کو نہ اندیشی کی دلیل ہے اور ہم کو افسوس ہے کہ باوجودیکہ زمانہ مسلمانوں کو تھپڑ ا رہا ہے اور ہندوستان میں بلا خیال سنی و شیعه و مقلد و غیر مقلد دیو بندی اور بریلوی یا قادیانی کے تمام ان لوگوں کے لئے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں زندہ رہنا مشکل ہو گیا ہے لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم کے علماء آج بھی انہیں خیالات میں مبتلا ہیں جو پچاس سال قبل تھے۔2