تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 570 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 570

تاریخ احمدیت جلد ۴ 535 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال بعد دیوبندی اصحاب کے ساکت رہ جانے کا اعتراف کرتے ہوئے یہ ضرور لکھا کہ۔ماہ جولائی ۱۹۲۵ء میں قادیان سے دیوبندی علماء کے لئے تفسیر نویسی کا چیلنج شائع ہوا۔دیو بندیوں کے ساکت رہنے پر میں سینہ ٹھونک کر میدان میں آنکلا کہ میں دیوبندی ہوں مجھ سے مقابلہ کر لو " ۱۷-۱ جولائی ۱۹۲۵ء کو امر تسر میں ایک آل سل مسلم پارٹیز کانفرنس پر ایک نظر " مسلم پارٹیز کانفرنس نواب اسمعیل خان صاحب بیرسٹر (ممبر لیجسلیٹو اسمبلی) کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مسلمانان ہند کے کئی سیاسی لیڈر مثلاً مولوی محمد علی صاحب جو ہر مولوی شوکت علی صاحب ، مولوی عبد الباری صاحب سید غلام بھیک صاحب اور خلیفہ شجاع الدین صاحب نے شرکت کی۔کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے حضور کی خدمت میں دعوت شرکت موصول ہوئی جس پر حضور نے " آل مسلم پارٹیز کانفرنس پر ایک نظر" کے نام سے ایک ٹریکٹ لکھا۔کانفرنس کے ایجنڈا میں مندرجہ ذیل اہم مسائل درج ہیں۔(1) ملک میں تبلیغی نظام کا قیام۔(۲) تنظیم مسلمانان ہند (۳) مسلم بنک (۴) قیام بیت المال (۵) اصلاح رسوم و بدعات و رفع تنازعات (۲) تحفظ مساجد و اوقاف و قیام مکاتب (۷) ہندو مسلم مناقشات (۸) سیاست ہند سے متعلق مسلمانوں کا روید (۹) مسلمانوں کی تعلیم و تجارت و صنعت و حرفت کی ترقی کا مسئلہ - حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ٹریکٹ کے آغاز میں مسلمان کی سیاسی اور مذہبی تعریف کی ضرورت و اہمیت واضح کرنے کے بعد ہر ایک مسئلہ کا حل پیش فرمایا۔اور مسلمان لیڈروں کو مندرجہ ذیل نکات کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی۔ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں۔عدم تعاون سے ۴ نہیں مسلمانوں کو اپنا مطالبہ حق نیابت اور اپنے دوسرے ضروری مطالبات نهایت درجه مدلل و معقول صورت میں پیش کرنے چاہئیں تا انگلستان کی رائے عامہ ان کے حق میں ہو جائے۔مسلمان دینی تعلیم کی طرف خاص توجہ دیں۔اسلامی تمدن پر تاریخی کتابیں لکھی جائیں اور اس سلسلہ میں تعلیم نسواں پر خاص طور پر زور دیا جائے۔مسلمان اپنے بچوں کو مغربی تمدن سے آزاد کرا ئیں۔کیونکہ تمدنی غلطی سیاسی غلامی سے بھی بہت بڑھ کر ہے۔