تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 567
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 532 آپ نے جنوری ۱۹۴۷ء میں پیٹری آرک آف انطاکیہ کو خصوصا اور فلسطین و شام کے پیٹری آرکوں اور بیٹیوں کو عموماً چیلنج دیا کہ وہ بیت المقدس میں اسلام اور عیسائیت کے درمیان اختلافی مسائل کی نسبت تقریری اور تحریری مناظرہ کرلیں۔یہ چیلنج عراق، مصر، شام ، لبنان وغیرہ کے اخبارات میں شائع ہوا۔مگر انہیں میدان مقابلہ میں آنے کی جرات نہ ہو سکی۔بہائیوں کے لیڈر شوقی آفندی پر بھی اتمام حجت کیا۔-1 مصر، شام، اردن، لبنان اور عراق کے دورے کئے۔آپ کے ذریعہ جہاں بلاد عربیہ کی پہلی احمد یہ جماعتوں میں اضافہ ہوا۔وہاں سوڈان ، حبشہ RII مدن، کویت، بحرین اور شمالی افریقہ میں نئی جماعتیں قائم ہو ئیں۔آپ کی واپسی پر صدر انجمن احمد یہ قادیان کے ماتحت فلسطین مشن میں مولوی جلال الدین صاحب قمر انچارج مبلغ مقرر ہوئے جو آج تک (یعنی دسمبر ۱۹۷۴ء) تک فریضہ تبلیغ ادا کر رہے ہیں۔و فلسطین سے شائع ہونے والے لٹریچر کا گو مفصل ذکر کیا جا چکا ہے مگر اسے مکمل نہیں قرار دیا جا سکتا۔کیونکہ اس دار التبلیغ کی اور بھی کئی مطبوعات میں مثلا الکفر ملة واحدة (ٹریکٹ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) - دعوة الاحمدية و غرضها "۔" احمدیت کا پیغام "۔تألیف حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ترجمہ ) " المودودی فی المیزان"۔( قادیانی مسئلہ کے جواب کا عربی ترجمہ ( از السید منیر الحسنی صاحب) دار التبلیغ شام و فلسطین کے حالات بیان کرنے کے بعد ہم بالآخر سلسلہ احمدیہ کی مساعی کے سلسلہ -t شام و میں بلاد عر بیہ کے چند فضلاء و ادباء کے افکار و آراء درج کرنا چاہتے ہیں۔رساله " التمدن الاسلامی" (دمشق) الجزء السابع ۱۳۵۷ھ نے لکھا :- اسلام کی طرف منسوب ہونے والے تمام فرقوں میں سے صرف قادیانی فرقہ ہی زندہ اور بیدار فرقہ ہے اس فرقہ کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ نہیں لیکن اس کے یورپ اور مشرق میں پھیلے ہوئے تبلیغی مشن مساجد اور مدارس دیکھنے سے آپ کو یقین ہو جائے گا کہ سچا اور مخلص مومن کون ہے اور کاذب کون ؟ ( ترجمہ ) رسالہ "العرفان" (لبنان) (بابت ذو القعده و ذو الحجہ ۱۳۵۸ھ) نے ۱۹۳۹ء میں لکھا۔” تبلیغ و اشاعت اسلام سے متعلق جماعت احمدیہ کی جدوجہد کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ اعلائے کلمہ اسلام کا عظیم الشان کام کر رہی ہے "۔( ترجمہ ) 42 - احمد درویش زقزق شام نے ۱۹۴۲ء میں احمدیہ مبلغین کی تبلیغی مساعی کے بارے میں لکھا۔"خدا