تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 565
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 530 خلافت عثمانیہ کا بارھواں سال شیخ نور احمد صاحب منیر چند ماہ فلسطین میں فریضہ تبلیغ ادا کرنے کے بعد ۱۷ ستمبر ۱۹۴۶ء کو شام میں آگئے۔اور جماعت احمد یہ شام کو بیدار کرنے کے علاوہ اس ملک کے اونچے طبقہ تک پیغام احمدیت پہنچایا اور ملکی پریس کے ذریعہ عوامی حلقوں کو بھی جماعت احمدیہ کی سرگرمیوں سے روشناس کرایا۔پھر آپ ہی کے دواران قیام میں فلسطینی احمدی نہایت بے سر و سامانی سے دمشق میں پناہ گزین ہوئے جن کی آباد کاری کا انتظام بھی آپ نے السید منیر احصنی صاحب سے مل کر کیا۔اس سلسلہ میں جماعت احمد یہ دمشق نے بہت اخلاص اور ہمدردی کا نمونہ دکھایا اور احمدی مہاجرین کی خصوصاً اور دوسرے مہاجرین کی عموماً ہر ممکن امداد کی۔آپ ۷ اردسمبر ۱۹۴۹ء کو واپس مرکز (ربوہ) میں آگئے۔|AS۔سرو AA مولوی رشید احمد صاحب چغتائی کے فلسطین میں پہنچنے کے ایک سال بعد چونکہ فلسطین کی صورت حال بہت زیادہ نازک ہو گئی تھی اس لئے چوہدری محمد شریف صاحب نے انہیں ۳ / مارچ ۱۹۴۸ء کو شرق اردن میں نیا مشن قائم کرنے کے لئے بھجوا دیا۔جہاں آپ ۱۷/ جولائی ۱۹۴۹ء تک تبلیغی فرائض ادا کرنے کے بعد دمشق میں آگئے اور کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد لبنان مشن کی بنیاد رکھی اور ۲۲/ دسمبر ۱۹۵ ء کو مرکز (ربوہ) میں پہنچے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ انچارج کے اس بروقت اقدام کی تعریف کرتے اور السید منیر الحصنی اور شیخ نور احمد صاحب منیر کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- "مشرقی پنجاب پر جیسے تباہی آئی ویسے ہی یہودیوں کے حملہ کی وجہ سے فلسطین پر آئی ہے اور خطرناک جگہ وہی تھی جہاں ہماری جماعت تھی۔حیفا کی جماعت کا کچھ حصہ فسادات سے پہلے ہی دمشق چلا گیا تھا۔باقیوں کے متعلق کوئی اطلاع نہیں آئی۔چوہدری محمد شریف صاحب نے جو وہاں کے مشنری انچارج تھے وقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے بڑی ہوشیاری سے کام کیا اور اپنا ایک مبلغ شرق اردن بھجوا دیا اور اسے ہدایت کی کہ پتہ نہیں ہمارا کیا حال ہو تم وہاں جا کر نیا مرکز بنانے کی کوشش کرو۔گویا انہوں نے وہی تدبیر اختیار کی جو ہم نے قادیان سے نکلنے کے وقت اختیار کی تھی اور اپنا ایک ساتھی شرق اردن میں بھجوا دیا۔شام میں کسی وقت ہمارے مبلغ گئے تھے لیکن کافی عرصہ سے یہ میدان خالی پڑا تھا۔تحریک جدید کے ماتحت شیخ نور احمد صاحب کو وہاں بھیجا گیا ان کے ذریعہ جماعت میں ایک خاص بیداری پیدا ہو رہی ہے وہاں کے دوست منیر ا ععنی صاحب مقامی احمدی ہیں جو کہ نہایت ہی مخلص اور اچھے تعلیم یافتہ ہیں۔انہوں نے یورپ میں فرانس وغیرہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔وہ آسودہ حال اور تاجر ہیں ان کے چھوٹے بھائی دمشق کے سب سے بڑے تاجر ہیں اور ان کے ایک بھائی کی قاہرہ (مصر) میں