تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 562
تاریخ احمدیت جلد ۴ 527 خلافت عثمانیہ کا بارھواں سال / اپریل ۱ ۱۹۳۱ء (بمطابق (۱۶ ذو القعدہ (۱۳۴۹ھ) کو آپ نے کہا بیر میں جامع سیدنا محمود کی بنیاد رکھی جو بلاد عربیہ میں پہلی احمدیہ مسجد ہے مسجد کی صرف چھت ڈالنا باقی رہ گئی تھی کہ آپ واپسی کے لئے مصر روانہ ہو گئے۔اس مسجد کی تعمیر میں کہا بیر کے سب احمدی مردوں، عورتوں اور بچوں نے حصہ لیا۔آپ ۲۹/ ستمبر ۱۹۳۱ء تک فلسطین میں رہے آپ کے زمانہ قیام میں حیفا اور طیرہ میں دو مستقل جماعتیں قائم ہو ئیں اور بلاد عربیہ کے اہم مقامات مثلا بغداد ، موصل، بیروت ، حمص حماة لاذقیہ اور عمان وغیرہ میں تبلیغی خطوط کے ذریعہ پیغام احمدیت پہنچا۔شام و فلسطین میں آپ کی مندرجہ ذیل تصانیف شائع ہو ئیں۔ا عجب الاعا حبیب فی نفی الاناجيل لموت المسيح على الصليب" البرهان الصريح فى ابطال الوهيه المسيح"۔الهديه السنيه لفئه المبشرة المسيحية"۔"حكمة الصيام" "ميزان الاقوال"۔توضيح المرام في الرد على علماء حمص و طرابلس الشام"۔دليل المسلمين في الرد على فتاوى المفتين"۔آپ ابھی حیفا میں تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حکم سے مولانا ابو العطاء صاحب ۱۳/ اگست ۱۹۳۱ء کو قادیان سے روانہ ہو کر ۱۴ ستمبر ۱۹۳۱ء کو حیفا پہنچے۔مولانا شمس صاحب نے آپ کو مشن کا چارج دیا اور ۲۰/ دسمبر ۱۹۳۱ء کو قادیان مراجعت پذیر ہوئے۔آپ کی واپسی پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو توفیق دی ہے کہ انہوں نے سچائی کی خاطر جانیں دیں جیسا کہ افغان ہیں۔ہندوستانیوں کو ابھی تک ایسا موقعہ نہیں ملا۔اور ایسا تو بالکل نہیں ملا کہ وہ جانتے ہوں کہ ان کی جان لی جائے گی اور پھر جان لی گئی ہو۔مگر ایسا بھی موقعہ نہیں ملا کہ بے جانے حملہ کر کے جان لی گئی ہو۔اس قسم کا پہلا موقعہ مدرسہ احمدیہ کے فارغ التحصیل لوگوں میں سے مولوی جلال الدین صاحب کو مولانا ابو العطاء صاحب فاضل ستمبر ۱۹۳۱ء سے آخر جنوری ۱۹۳۶ء تک قیام پذیر رہے۔آپ کے زمانہ میں دار التبلیغ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گیا۔آپ نے کہا بیر میں "مسجد جامع سید نا محمود " کی تکمیل کرائی۔مولانا شمس صاحب نے ۱۹۳۰ء میں