تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 30
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 22 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت دی یا فی الواقعہ اس دن غیر معمولی طور پر زیادہ لوگ آئے تھے۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہے جس کا آج تک میرے قلب پر ایک گہرا اثر ہے "۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آپ کے دل میں جس قدر ادب و احترام تھا اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی ذاتی ضرورت کے لئے حضور سے کبھی کوئی مطالبہ اپنی زبان سے نہیں کیا۔چنانچہ فرماتے ہیں۔کہ۔ذاتی ضرورت کے لئے میں نے کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی کچھ نہیں مانگا مجھے جب کوئی ضرورت پیش آتی میں خاموش پاس کھڑا ہو جایا کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھ جاتے کہ اسے کوئی ضرورت ہے چنانچہ آپ ہماری والدہ صاحبہ سے کہتے کہ اسے کوئی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔پتہ لویہ کیا چاہتا ہے۔اسی ضمن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔"میری عمر بہت چھوٹی تھی مگر یہ خدا کا فضل تھا کہ باجود یکہ لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ نہ تھی جب سے ہوش سنبھالا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کامل یقین اور ایمان تھا اگر اس وقت والدہ صاحبہ کوئی ایسی بات کرتیں جو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان کے شایاں نہ ہوتی تو میں یہ نہ دیکھتا کہ ان کا میاں بیوی کا تعلق ہے اور میرا ان کا ماں بچہ کا تعلق ہے۔۔۔۔۔۔حالا نکہ میں کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ نہ مانگتا تھا۔والدہ صاحبہ ہی میری تمام ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔باوجود اس کے والدہ صاحبہ کی طرف سے اگر کوئی بات ہوتی تو مجھے گراں گزرتی۔مثلا خدا کے کسی فضل کا ذکر ہو تا تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوئی ہے اس قسم کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے کم از کم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتا گراں گزرتا۔میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بے ادبی سمجھتا تھا۔لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس فقرہ سے لذت پاتے تھے۔کیونکہ وہ برکت اس الہام کے ماتحت ہوئی کہ یادم اسکن انت وزوجک "- آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہر حکم کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کیا کرتے تھے اور آپ کے اشاروں کو بھی ابتدا ہی سے خوب سمجھتے۔چنانچہ حضرت سید فضل شاہ صاحب کا واقعہ ہے کہ۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود چوبارے کے صحن میں بیٹھے تھے اور بادام آگے رکھے تھے۔۔۔میں بادام توڑ رہا تھا کہ اتنے میں حضرت میاں بشیر الدین جن کی عمر اس وقت چار یا پانچ سال کی ہو گی۔