تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 547 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 547

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 512 خلافت عثمانیہ کا بارھواں سال واقعہ یہ ہے کہ قادیانی جماعت کے جو کچھ بھی عقائد ہیں وہ آیات و احادیث کے سوء فهم و قصور علم کی بناء پر ہیں۔ایک آیت کے معنے جو ہم سمجھے ہوئے ہیں وہ اس کے دوسرے معنی مراد لیتے ہیں۔مگر ہماری طرح وہ بھی اپنے عقائد کے ثبوت میں آیات و احادیث کے معنی و مفہوم کو اپنے طور پر اپنے فہم و ادارک کے مطابق پیش کرتے ہیں اور یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ مؤدل کو مرتد یا کافر نہیں قرار دیا جا سکتا۔اس کے علاوہ مرتد کی سزا قتل جتلائی جاتی ہے نہ کہ رجم - مگر افغانستان میں ان کو رحم کیا جا رہا ہے جو ایک نئی اختراع ہے۔اگر مناظرانہ الزامات کفر وارتداد کو معتبر قرار دیا جائے تو پھر تمام فرقے ایک دو سرے کے نزدیک واجب القتل ٹھرتے ہیں۔بہت سے غالی اور منتقشف علمائے احناف شیعوں کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔بالخصوص قائلین ایک عائشہ کو۔اسی طرح شیعہ خوارج کو کافر کہتے ہیں اور مناظرانہ حیثیت میں تمام فرقے ایک دوسرے کے عقائد کو باطل ٹھہراتے اور کفر و ارتداد سے تعبیر کرتے ہیں۔بریلی کے دارالکفر سے سینکڑوں علماء حق کی نسبت کفر کے فتوے صادر ہوئے۔خصوصاً مولانا رشید احمد صاحب محدث گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے لے کر حضرت شیخ الہند قدس سرہ العزیز تک تمام علمائے دیو بند ان کے نزدیک بالکل ہی مرتد و کافر تھے۔کیا یہ سب واجب القتل نہیں ٹھہرتے اور کیا اس طریقہ پر ایک ایسے فتنہ ا۔۔۔۔دروازہ نہیں کھل جاتا۔جولا انتهاء تباہی اور بربادی کا باعث ہو گا"۔سید رئیس احمد صاحب جعفری نے مولانا محمد علی جو ہر کے ان مضامین پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔انہوں نے ان دونوں جماعتوں کے افکار و آراء کا مطالعہ کیا۔اور پھر اپنا نظریہ یہ پیش کیا کہ اسلام میں قتل مرتد جائز نہیں۔۔۔۔اس مسئلہ پر انہوں نے آیات قرآنی احادیث رسول اقوال فقهاء ، خیالات آئمہ افکار مجتہدین کا اتنا نادر ذخیرہ جمع کر لیا کہ ایک شخص پوری بصیرت کے ساتھ اس مسئلہ پر ریسرچ کر سکتا ہے۔اس ذخیرہ سے متمتع ہونے کے بعد اپنی بصیرت کے مطابق ایک رائے قائم کی اور اس پر آخر وقت تک مصرر ہے "۔مسلم زعماء میں سے دوسرے اہل قلم جنہوں نے اس موقعہ پر مسئلہ قتل مرتد پر محققانہ انداز میں قلم اٹھایا جناب عبد المساجد صاحب بی۔اے دریا آبادی ہیں جنہوں نے لکھا۔کابل کے واقعہ رجم کی تائید و تحسین میں بعض اخبارات کی پُر جوش تحریر میں اور علمائے حنفیہ کے مضامین میری نظر سے گزرے میں نے انہیں بغور پڑھا۔لیکن افسوس ہے کہ ان سے متفق و مطمئن نہ ہو سکا اور باوجود غیر احمدی ہونے کے اس باب خاص میں میری ہمدردی گروہ احمدی کے ساتھ ہے۔میں کسی معنی میں بھی ہر گز نہ ہی عالم ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتا۔تا ہم ایک عام مسلم بھی اپنے فہم و