تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 540 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 540

تاریخ احمدیت جلد ۴ ۲۰۰ ریویو آف ریلیجره اردو جون ۱۹۲۴ء صفحه ۲۲ ۲۰۱ ۱۹۲۷ء کے حالات میں اس کا ذکر آرہا ہے۔۲۰۲۔لیکچر شمله صفحه ۱۹-۲۰ ۲۰۳ اساس الاتحاد صفحه ۳-۴ ۲۰- اساس الاتحاد صفحه ۲۴-۰۲۵ ۲۰۵ خطبہ صدارت صفحہ ۱۵-۱۲- ٢٠ الفضل ۱۴ جون ۱۹۵۶ء صفحه ۴- ۲۰۷- سیر قادیان صفحه ۲۵-۲۶- 505 خلافت ثانیہ کا گیار ۲۰۸۔اس ضمن میں تفصیلات تو آئندہ اپنے اپنے مقام پر آئیں گی ہم یہاں صرف مالی اعانت سے متعلق بطور مثال دو شہادتیں صدر انجمن احمدیہ کے پرانے ریکارڈ سے درج کرنا ضروری سمجھتے ہیں جن سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور جماعت احمدیہ کا مسلم لیگ سے رابطہ و تعلق کتنا پرانا اور کتنا گہرا ہے۔(1) صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ متعلقہ ۱۹۲۷ء میں ناظر اعلیٰ کی طرف سے یہ رپورٹ درج ہے کہ شملہ کا نفرنس کے موقعہ پر مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سیف الدین کچلو بیر سٹرایٹ لاء حضرت خلیفتہ صحیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلم لیگ کی مالی کمزوری کا اظہار کر کے حضرت سے امداد کی درخواست کی حضور نے ترقی اسلام کے سلسلہ میں دوسو روپیہ دینا منظور فرمانیا اور اسی وقت اپنے پاس سے ادا فرما دیئے۔(۲)۱۹۲۹ء کے ریکارڈ میں ہمیں یہ ملتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس ( دیلی منعقدہ ۳۱/۳۰ مارچ ۱۹۲۹ء) کے لئے ایک سوری پید چندہ دیا گیا۔ریکارڈ صدر انجمن احمد یہ مارچ ۱۹۲۹ء صفحہ ۳۷۶) یہ اجلاس روشن تھیٹر دہلی اجمیر دروازہ میں ہوا تھا اس میں مسٹر محمد علی جناح۔حاجی عبد اللہ بارون صاحب مولوی شفیع صاحب داؤدی مولوی ظفر علی خان صاحب کے علاوہ حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت ذو الفقار علی خان صاحب اور دوسرے مقتدر حضرات شامل تھے۔اس جلسہ کا اشتہار جو سید شمس الحسن صاحب سیکرٹری آل انڈیا مسلم لیگ ہمیماراں دہلی کا لکھا ہوا اور اقبال پر تنگ پریس دہلی کا چھپا ہوا ہے قادیان کی احمد یہ لائبریری میں محفوظ ہے۔۲۰۹ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب کے ایک محط محرره کیم جون ۱۹۲۲ء سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب ۱۹۲۲ء میں تصنیف ہو چکی تھی چنانچہ فرماتے ہیں " حضرت خلیفتہ اصیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے امیر کے نام ایک لطیف تحفہ لکھا ہے اور عبد الاحد خاں افغان کو سر دست ایک مخط دے کر بھیجا ہے"۔(جان پدر صفحه ۳۵) ۲۱۰ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء صفحه ۲۸ الفضل ۲۱ / اگست ۱۹۲۴ء صفحہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں امیر کامل کو یہ کتاب بذریعہ ڈاک بھجوانے کی تجویز کی گئی تھی۔لیکن عبد الاحد صاحب افغان کا بیان ہے کہ حضرت سید ولی اللہ شاہ اور نیک محمد خاں غزنوی ہمیں گئے اور سردار محمود طرازی وزیر خارجہ کو دعوۃ الامیر دی کہ وہ شاہ کامل تک اسے پہنچادیں۔۲۱۲ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں احمدیت اور دعوۃ الامیر کے بعض حصے ایسے ہیں جن کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ خدائی تائید شامل ہے اور وہ انسانی الفاظ نہیں رہے بلکہ خدا تعالٰی کے القا کردہ الفاظ ہو گئے ہیں"۔الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۳۷ء صفحه ۶) ۲۱- دعوة الامیر صفحه ۲۸۳ ۲۱۴- تفصیل آگے آرہی ہے۔۲۱۵۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو زوال غمازی ( از عزیز ہندی) ۲۱۹- سید احمد محمود غزنوی (جنہوں نے عرشہ جہاز پر شاہ سے آخری ملاقات بھی کی تھی امان اللہ خان کی ہمیں سے روانگی کے وقت کا درد ناک منظر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔” عام مسافروں کے ساتھ ان کی کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔یورپ کو جانے والے مسافر بڑے اعلیٰ لباس میں پورے فیشن کے ساتھ دوڑتے نظر آتے تھے اور اگر کوئی شخص سب سے سادہ معمولی قمیص میں اور پتلون