تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 537
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 502 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۵ الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۵ ۱۳۱- الفضل ۱۵/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۶٫۳ / نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۳- ۱۲۲- تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل / نومبر ۱۹۲۳ء صفحہ ۳-۵- ۱۲۳- الفضل ۱۱/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۶ ۱۲- الفضل ۲۲ / نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۵- ۱۲۵ الفضل ۱۸/ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۰۸۰۳ ١٣٦ الفضل ۱/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۶ - الفضل ۲۵ / اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۲- ۳۸ الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۵ الفضل ۲۰/ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۴ الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۲ ۱۳۱- ڈیلی کرانیکل لندن ۲۰/ اکتوبر ۶۱۹۲۴ ( بحوالہ سلسلہ احمد به صفحه ۳۷۹) ۱۳۲- ویسٹ منسٹر گزٹ (۲۰/ اکتوبر ۱۹۲۴م) بحوالہ تواریخی مسجد فضل لندن صفحه ۳۶-۳۸ ۱۳۳۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۹/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۳ ۱۳۴ الفضل ۳ اکتوبر ۱۹۲۳ء صفحه ۳- ایضا صالحی ۳-۶- ۱۳۵ الفضل ۱۱/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۲۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۸/ دسمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۴-۶- ١- الفضل ۶/ نومبر ۱۹۲۳ء صفحہ ۱ ۱۳۷ الفضل ۶/ دسمبر ۰۶۱۹۲۴ ۱۳۸- مثلا تا ئمز آف انڈیا نے ۱۹/ نومبر ۱۹۲۴ء کو لکھا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ سے (جو کل اپنے لمبے سفر یورپ سے واپس آئے ہیں) ہمارے اخبار ٹائمز آف انڈیا) کے ایک نمائندہ نے ان کے بھی پہنچنے سے تھوڑی دیر بعد ملاقات کی یہ ملاقات نہایت دلچسپ اور نئی روشنی دینے والی ثابت ہوئی۔اس نئی اسلامی جماعت کے امام ایک ذی علم اور روشن دماغ نوجوان ہیں اور انگریزی خوب روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔(بحوالہ الفضل ۲۵/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۱۹) ۳۹ اسی طرح حضور نے ۲۰ نومبر ۱۹۲۳ء کو گاندھی جی کے ساتھ علی برادران اور جناب ابو الکلام صاحب آزاد کی موجودگی میں حالات حاضرہ پر گفتگو فرمائی اور اس بات پر زور دیا کہ کانگریس اس وقت تک صحیح معنوں میں قومی جماعت نہیں کہلا سکتی جب تک اس میں تمام قسم کے خیال کے لوگ شامل نہ کئے جائیں۔اب کانگریس اپنے آپ کو قومی جماعت کہتی ہے لیکن وہ ایک خاص پارٹی کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے گاندھی جی نے اس پر رضامندی ظاہر کی اور حضور سے کانگریس میں شامل ہونے کے لئے بہت اصرار کیا حضور نے جواب دیا کہ چونکہ میں کلی طور پر حامی تعاون ہوں اور آئینی اور ارتقائی ترقی کا حامی ہوں اس لئے موجودہ صورت میں انڈین کانگریس میں شامل نہیں ہو سکتا۔(الفضل ۶ دسمبر ۱۹۲۴ء) صفحہ ۱-۲- ۱۴۰ الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۲۰۱ ۱۳۱- ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کا بیان ہے کہ جب حضور ریلوے اسٹیشن آگرہ سے گھوڑا گاڑی پر سوار شہر میں جائے نے جائے قیام کے تشریف لے جارہے تھے کہ ایک احمدی دوست نے حضور کی خدمت میں قادیان سے آمدہ تازہ تار پیش کیا۔جس میں یہ اطلاع تھی کہ امتہ الحی صاحبہ سخت بیمار ہیں حضور جلد از جلد قادیان تشریف لائیں۔یعنی اگرہ کا ایک روزہ قیام منسوخ فرما دیں۔مگر حضور نے فرمایا کہ یہ دینی کام جو مقررہ پروگرام کے مطابق ہے چھوڑ نہیں سکتا اور ساتھ ہی اپنے اس طبی خادم حشمت اللہ کو فور آقا دیان روانہ کر دیا چنانچہ میں حضور کے درود قادیان سے اس گھنٹے پہلے قادیان پیچ گیا حضرت امتہ الحی صاحبہ کو میرے پہنچنے سے خوشی ہوئی۔