تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 536
تاریخ احمدیت جلد ۴ 501 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال الفضل ۱۲۳ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۳-۴ ۸۹ خط سیدنا امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی بنام حضرت مولوی شیر علی صاحب (الفضل ۲۳/ تمبر صفحه ۴۰۳) الفضل ۲۳/ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۳-۰۴ -۹۱ خط حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی سے ماخوذ ٩٢ الفضل ۳۰/ اگست ۱۹۲۴ء صفحه ۱- الفضل ۳۳/ تمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۵- الفضل ۲۸ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۶۶ چند اخبارات کے نام بطور نمونہ یہ ہیں۔ٹائمز آف لندن۔ڈیلی میل لنڈن - ڈیلی مرر- ڈیلی نیوز- ایونگ سٹینڈرڈ ڈیلی سکیچ۔ڈیلی گرافک ڈیلی ٹیلیگراف مانچسٹر گارڈین ۹۵ الفضل ۲/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۲- ۹۶ - سفریورپ کے حالات کی قلمی ڈائری ( از حضرت شیخ یعقوب به علی صاحب عرفانی اصل ڈائری جو پنسل سے لکھی ہوئی ہے خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔۹۷۔ان خطوط کی نقل خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔الفضل ۱/۲۸ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۳ 99 قلمی ڈائری حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سے ماخوذ (مکمل پیغام کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۲۷ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۴-۵)۔اس کا مفصل ذکر آگے آرہا ہے۔مثلالیگ آف نیشنز اور دنیا کے مختلف ممالک کو تار دیئے پریس کو اطلاعات بہم پہنچانے کا انتظام فرمایا لندن میں احتجاجی جلسے منعقد کرائے ایک مضمون میں شہید افغانستان کے مفصل حالات شائع کئے۔۱۰ - الفضل ۲۷/ ستمبر ۱۹۲۱ء صفحه ۷۰۵ - الفضل ۱۵/ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۵ الفضل ۱۰/ جنوری ۱۹۲۵ء صفحه ۲ ۱۰۳ الفضل ۷ / اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۴-۵ پر پیغام کا متن موجود ہے۔مکمل لیکچر کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۷ / اکتوبر ۱۹۲۴ء۔۱۰۵ الفضل ۱۴ / اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۳-۴- ۱۰۶ - مفصل خطبہ کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۵-۶- الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۵ -۱۰۸ الفضل ۲۵ / اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۴۔تفصیل آگے آرہی ہے۔۱۰۹- ۲۳/ ستمبر کو اسلام پر تین مضمون پڑھے گئے پہلا مضمون خواجہ کمال الدین صاحب بانی رو کنگ مشن نے اہلسنت و الجماعت کی طرف سے دوسرا شیخ خادم و جیلی نے اہل تشیع کی طرف سے اور تیسرا اور آخری حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے تھا۔جو تحریک احمدیت کے نقطہ خیال سے اسلام کی ترجمانی کرتا تھا۔-11+ الفضل ۸/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۸- الفضل ۲۱/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۰۵ الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۴۴ء صفحه ۴ الفضل ۳۰/ تمبر ۱۹۲۴ء صفحه 4 الف الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۵۰۴ ۱۵ بحوالہ الفضل ۱۸/ نومبر ۱۹۲۴ء صفحه ۲- - -HA یہ لیکچر ایک سیاسی لیکچر کے نام سے چھپا ہوا ہے۔یہ مضمون پیارا رسول کے نام سے چھپا ہوا ہے۔بیا ہوا الفضل ۲۸/ اکتوبر ۱۹۲۳ء صفحه ۴