تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 521 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 521

تاریخ احمدیت جلد ۳ 498 خلافت ثانیہ کا گیار حواشی ریلے لنڈن کے ایک پارک کا نام ہے جہاں اس نمائش کا انعقاد ہو ا تھا۔اس کمیٹی کے ممبر یہ تھے۔(۱) سرای دینی سن راس (صدر) (۲) سر تھامس ڈبلیو آرنلڈ اور مسٹرو کٹر پر ٹینفورڈ(نائب صدر) مسٹرایف ی چیننگ۔مسٹری رائس ڈیوڈ - پارسی مثل ڈیوس - پادری اے ایس گیڈن۔پروفیسر مارگولیته - پروفیسر ایلا ئکس در نر- پادری ڈبلیو سٹن بیچ۔سر فرانس بینگ سینڈ (یہ سب انتظامیہ کمیٹی کے ممبر تھے) مسٹر ایل سی ساپر (خزانچی مسٹرڈ بلیوں انٹس ہیئر (سیکرٹری) مس ایم ایم شار پلیو (سیکرٹری) الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۷۵ - ام الفضل ۲۰/ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۱ تواریخ مسجد فضل لنڈن صفحہ ۳ الفضل ۱۶/ اگست ۱۹۲۴ء صفحه ۳- -4 -A - -10 الفضل ۱۶/ اگست ۱۹۲۲ء صفحه ۸ الفضل ۲۳ جون ۱۹۲۲ء صفحہ ۳۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کا بیان ہے کہ اس سفر کے متعلق استخارہ کرنے کا تحریری ارشاد خاکسار کو بھی پہنچا تھا۔ابھی دو تین دن ہی دعا کی تھی کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ مولوی فضل الدین صاحب (وکیل) اسباب سفرباندھ رہے ہیں اور میں بطور مددگار پاس کھڑا ہوں میں نے یہ رویا حضور کو لکھ کر بھیج دی تھی۔حضرت مسیح موعود نے لیکچر لاہور اور براہین احمدیہ حصہ پنجم پر تحریر فرمایا ہے کہ ذوالقرنین کے قرآنی واقعہ میں میرے متعلق پیشگوئی ہے اور میرا نام ذوالقرنین رکھا گیا ہے اب ذوالقرنین کی نسبت قرآن مجید میں لکھا ہے کہ اس نے مغربی ممالک کی طرف سفر کیا۔ثابت ہوا کہ مسیح موعود یا اس کے کسی جانشین کو ان ممالک کی طرف ضرور سفر کرنا پڑے گا۔حضرت مسیح موعود نے حدیث نزول عیسی کی تشریح میں فرمایا يسافر المسيح الموعود او خليفة من خلفاء ، الى ارض دمشق حمامتہ البشرئی صفحہ ۳۷) طبع اول یعنی مسیح موعود یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ سرزمین دمشق کا سفر اختیار کرے گا۔الفضل ۱۶ / اگست ۱۹۲۴ء صفحه ۸ ازالہ اوہام طبع اول صفحه ۵۱۵-۵۱۷ ملخصاً از الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۳ء صفحه ۵ ملخصاً از الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۴ء صفحه ۵- ان کی تفصیل حضور ہی کے قلم مبارک سے لکھتا ہوں فرمایا۔” میری مالی مشکلات جن کی موجودگی اور بوجھ کا اٹھانا طبیعت پر ایک حد تک گراں گزرتا ہے دوسرے میری صحبت بہت خراب رہتی ہے اور اتنے لیے سفر اور اس کی مشقتوں کو برداشت کرنا میرے لئے شاید ایک بار گراں ثابت ہو کیونکہ اس قدر کثیر اخراجات کے برداشت کرنے کے بعد اگر وقت کو پوری طرح استعمال نہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ کام نہ کیا جائے تو یہ ایک اسراف ہو گا۔جس کو میری طبیعت پسند نہیں کرتی۔تیسرے قادیان سے اس قدر عرصہ تک اتنے فاصلے پر رہنا کہ گویا ایک نئی دنیا ہے مجھے ناپسند ہے چوتھے اپنی صحت کی خرابی اور عمر کی ناپائیداری کا خیال کر کے طبیعت ایک تکلیف محسوس کرتی ہے۔پانچویں میری دو بیویاں اس وقت حاملہ ہیں اور ان دونوں کو اسقاط کا مرض ہے اور بچے ان کو سخت تکلیف سے ہوتے ہیں یہاں تک کہ جان کی فکر پڑ جاتی ہے اور ان کے وضع حمل کا زمانہ وہی ہے جو اس سفر میں خرچ ہو گا۔میری غیر حاضری کا خیال ان کی طبائع پر ایک قدر نا بوجھ ہے"۔(الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۲ء صفحہ ۳) الفضل ۲۴ جون ۱۹۳۴ء صفحه ۶ الفضل ۱۶/ اگست ۱۹۲۴ء صفحه ۳