تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 516
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 493 خلافت ثانیہ کا گیار هوان سال ولا ئل بیان فرمائے اور حضور علیہ السلام کی پوری ہونے والی بارہ اہم پیشگوئیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اس شاندار تحفہ کا انتقام مندرجہ ذیل الفاظ پر کیا ہے۔اللہ تعالی کے مامور پر ایمان لائے تاخد اتعالٰی کی طرف سے آپ کو امن دیا جائے اور اسلام کی آواز کو قبول کیجئے تا سلامتی سے آپ کو حصہ ملے میں آج اس فرض کو ادا کر چکا ہوں جو مجھ پر تھا۔خدا تعالی کا پیغام میں نے آپ کو پہنچا دیا ہے۔اب مانتا نہ ماننا آپ کا کام ہے "۔افسوس امیر امان اللہ خان نے نہ صرف یہ آسمانی تحفہ قبول کر کے خدا کی امان کے نیچے آنے سے انکار کر دیا بلکہ انتہائی شوخی اور بے باکی سے مظلوم اور بے کس احمدیوں کو پے در پے اپنے مظالم کا نشانہ بنایا جس کا خمیازہ انہیں عبرتناک رنگ میں بھگتنا پڑا جو رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔یعنی ۱۹۲۹ء میں ایک ڈاکو بچہ سقہ نے تخت کامل پر قبضہ کر لیا۔اور انہیں بھاگ کر پہلے قندھار اور پھر قندھار سے بیٹی کے رستہ جا کر اٹلی میں پناہ گزین ہونا پڑا۔جہاں وہ کئی سال تک نہایت کسمپرسی اور گمنامی کی م في زندگی بسر کرنے کے بعد ۳/ اپریل ۱۹۹۰ء کو راہی ملک عدم ہو گئے فاعتبروا یا اولی الابصار - حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا بیان ہے کہ جب وہ یورپ روانہ ہوئے تو خود ان کے ایک درباری نے آپ کی خدمت میں خط لکھا کہ ہماری مجالس میں بار بار یہ ذکر آیا ہے کہ جو کچھ ہماری ذلت ہوئی وہ اسی ظلم کی وجہ سے ہوئی جو ہم نے احمدیوں پر کیا تھا امید ہے کہ اب جبکہ ہمیں سزا مل چکی ہے آپ ہمارے " لئے بد دعا نہ کریں گے۔2 " دعوة الامیر کو گو امیر امان اللہ نے کوئی اہمیت نہ دی مگر دعوۃ الامیر کا اثر سعید روحوں کو یہ کتاب بہت سی سعید روحوں کی ہدایت کا موجب بنی اور بن رہی ہے۔یہی وہ عظیم الشان کتاب ہے جو خان فقیر محمد صاحب ایگزیکٹو انجینئر ( سابق صوبہ سرحد) کو احمدیت میں لانے کافوری باعث ہوئی۔$1 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی اس کی تفصیل میں فرماتے ہیں۔سرحد کے ایک رئیس چوہدری فقیر محمد صاحب ایگزیکٹو انجینئر تھے۔وہ ایک دفعہ دہلی میں مجھے ملے اور انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ ہم چار بھائی ہیں جن میں سے دو بھائی غیر احمد کی ہیں اور دو بھائی احمدی ہیں۔اپنے متعلق انہوں نے کہا کہ میں ابھی تک آپ کی جماعت میں شامل نہیں ہوا۔ہم پورا پورا انصاف کرنے کے عادی ہیں روپیہ میں سے اٹھنی ہم نے آپ کو دے دی ہے اور اٹھنی دوسرے مسلمانوں کو دے دی ہے۔میں نے بھی ان سے مذاقاً کہا کہ خان صاحب ! ہم تو اٹھنی پر راضی نہیں ہوتے۔ہم تو پورا لے کر چھوڑا کرتے ہیں۔وہ اس وقت معہ اہل و عیال انگلستان کی سیر کو جار ہے