تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 515 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 515

تاریخ احمدیت جلد ۴ تو سیع کیا گیا ہے" 107 خلافت تائید کا گیارھواں سال حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلم لیگ کو مضبوط بنانے کے لئے صرف مشوروں اور تجاویز بتلانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر ممکن اخلاقی، آئینی اور مالی ذرائع سے اس کی اعانت بھی کرنے لگے۔چنانچہ یہی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی خود فرماتے ہیں۔جب مسلم لیگ قائم ہوئی تو اس کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ انہیں اپنے جلسے منعقد کرنے کے لئے بھی روپیہ نہیں ملتا تھا اور ہمیشہ میں انہیں مدد دیا کرتا تھا۔مجھے لاہور میں ایک دفعہ لکھنو کے ایک وکیل ملے انہوں نے کہا میں قریباً نو سال مولانا محمد علی صاحب کا سیکرٹری رہا ہوں اور مجھے خوب یاد ہے کہ جب کبھی مسلم لیگ کا جلسہ ہو تا تھا آپ کو اس میں بلایا جاتا تھا اور آپ سے مشورہ لیا جاتاتھا۔۔۔۔۔اور جب روپیہ کی وجہ سے جلسہ نہ ہو سکتا تھا تو آپ سے مالی امداد لی جاتی تھی ہم لوگ جو ابھی تک زندہ موجود ہیں اس بات کے گواہ ہیں "۔یہ بات ایسی کھلی تھی کہ غیر مسلم بھی اسے جانتے تھے چنانچہ ارجن سنگھ صاحب عاجز (ایڈیٹر اخبار "رنگین " امر تسر نے ) اپنی کتاب "سیر قادیان " میں جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک بیان کرتے ہوئے لکھا۔مسلمانوں کی کئی سیاسی جماعتیں ہیں اور جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ احمدی جماعت مسلم لیگ کے طرز عمل کی حامی ہے چنانچہ ذمہ دار احمدیوں سے تبادلہ خیالات کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ان لوگوں نے مسلم لیگ کے مقاصد کی تکمیل کی خاطر ہزارہا روپیہ خرچ کرنے کے علاوہ اپنی تمام کوششیں مسلم لیگ کی کامیابی کے لئے وقف رکھی ہوئی ہیں" " دعوۃ الامیر" کی اشاعت حضرت خلیفہ المسع الانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کو اوائل خلافت ہی سے والیان ریاست تک پیغام احمدیت پہنچانے کا از حد خیال رہا ہے جیسا کہ نظام حیدر آباد دکن والی ریاست رامپور اور والیہ ریاست بھوپال کے نام تبلیغی خطوط بھیجوانے کا ذکر پچھلے صفحات میں آچکا ہے اس سال (۱۹۲۴ء میں) حضور نے امیر امان اللہ خان بادشاه افغانستان و ممالک محروسہ پر اتمام حجت کے لئے "دعوۃ الامیر" کے نام سے ایک ضخیم کتاب شائع فرمائی۔جس کا فارسی ترجمہ حضرت حکیم مولانا عبید اللہ صاحب بہل نے کیا۔حضور نے اس بے نظیر کتاب میں (جس کا ایک حصہ خدا تعالٰی کے القاء کا نتیجہ ہے ) نہایت جامعیت کے ساتھ جماعت احمدیہ کے مخصوص عقائد اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی ماموریت کے بارہ میں ۲۰۹