تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 514
احمدیت۔جلد ۴ 491 ی کا گیار هوار ذات سے بلکہ مسلم لیگ " سے بھی گہری ہمدردی پیدا ہو چکی تھی۔خصوصاً اس لئے کہ یہ واحد سیاسی ادارہ تھا جو مسلمانان ہند کے سیاسی تحفظ کو پیش کر رہا تھا اور حضور کی از حد خواہش تھی کہ اسے زیادہ سے زیادہ مضبوط و مستحکم بنانا چاہئے۔چنانچہ اسی خیال سے آپ نے مسلم لیگ کے اجلاس لاہور ( منعقدہ ۲۳ مئی ۱۹۲۲ء) کے لئے اساس الاتحاد" کے نام سے ایک اہم رسالہ تصنیف فرمایا۔جسے اجلاس کے موقعہ پر مفت تقسیم کیا گیا۔مسلم لیگ کی استقبالیہ کمیٹی نے حضور کو اجلاس میں شرکت کی خاص طور پر دعوت دی تھی جو اس رسالہ کی وجہ تصنیف بنی۔یہ اور مسلم لیگ کی تاریخ میں انتہائی نازک دور تھا۔اس وقت مسلم لیگ دو حصوں میں بٹ کر اپنا اثر و نفوذ ختم کر چکی تھی۔مگر آپ نے " اساس الاتحاد" کے ذریعہ اس میں زندگی کے نئے آثار پیدا کرنے کے لئے نہایت اہم اور مفید مشورے دیئے۔اس سلسلہ میں سب سے اہم نکتہ مسلم لیگ کے ارباب حل و عقد کے سامنے مندرجہ ذیل الفاظ میں رکھا۔مسلم کی تعبیر مذ ہبی نقطہ خیال سے اور ہے اور سیاسی نقطہ خیال سے اور مذہبی نقطہ خیال سے تو مختلف فرق اسلام کے نزدیک وہ لوگ مسلم ہیں جو ان اصولی مسائل میں جن پر وہ اپنے نزدیک بنائے اسلام رکھتے ہیں متفق ہوں۔اور سیاسی نقطہ خیال کے مطابق ہر شخص جو رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے کا مدعی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ نہیں قرار دیتا اور کسی جدید شریعت کا قائل نہیں ہے لفظ منظم کے دائرہ کے اندر آجاتا ہے۔۔۔۔پس ضروری ہے کہ مسلم لیگ کے دروازے ہر ایک اس فرقہ کے لئے کھلے ہوں جو اپنے آپ کو مسلم کہتا ہے خواہ اس کو دوسرے فرقوں کے لوگ مذہبی نقطہ نگاہ سے کا فری سمجھتے ہوں اور اس کے کفر پر تمام علماء کی صریں ثبت ہوں "۔۲۰۴ حضور نے اساس الاتحاد میں ان اہم نکات کو بھی دو ہرایا جو آپ نے ملکی قوموں میں اتحاد کے لئے ۱۹۲۳ء میں پیش فرمائے تھے اور ایسی تدابیر تائیں جن پر آپ کے نزدیک ملکی جماعتوں میں مستقل اور پائیدار صلح و امن کی اساس رکھی جاسکتی تھی۔مسلم لیگ نے بالآخر یہ عظیم الشان نکتہ تسلیم کر کے اعلان کیا کہ اس کا دروازہ ہر مدعی اسلام کے لئے کھلا ہے۔چنانچہ مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی نے مسلم لیگ کانفرنس میرٹھ میں کہا۔"اس (مسلم لیگ۔ناقل ) نے اپنے دستور میں اعلان کر دیا ہے کہ ہماری مراد مسلم کے لفظ سے صرف اس قدر ہے کہ اس میں شریک ہونے والا اسلام کا دعویٰ رکھتا ہو اور اس کا کلمہ پڑھتا ہو کیونکہ مسلم لیگ کوئی مفتیوں کی جماعت نہیں۔علماء کے فتاوی اپنی جگہ پر قائم رہیں گے صرف غیر کلمہ گویوں کے مقابلہ میں قدرے