تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 513 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 513

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 490 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال ہے کہ عورتوں میں خطبہ۔لیکچرز سوسائٹیاں اور ہر ایک خیال جو عورتوں کے متعلق ہو سکتا ہے اس کی محرک وہی ہیں "۔لاہور میں مسلم لیگ کا اجلاس اور حضرت خلیفہ ثانی کی سیاسی راہنمائی ملک میں دو -192 مشهور سیاسی ۱۹۸ پارٹیاں قائم تھیں آل انڈیا نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ کانگریس کی بنیاد ایک انگریز مسٹر ہیوم نے ۱۸۸۵ء میں رکھی۔اور ابتد اور اس کے بنیادی مقاصد میں انگریزی حکومت اور ہندوستانیوں کے درمیان رابطہ پیدا کرنا تھا جو رفتہ رفتہ مکمل آزادی کے مطالبہ میں تبدیل ہو گیا۔مسلم لیگ کی تاسیس ۳۰ ستمبر ۱۹۰۶ء کو وقار الملک نواب مولوی مشتاق حسین صاحب کی زیر صدارت عمل میں آئی اور اس کا نصب العین یہ تجویز ہوا کہ ”ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی محافظت و ترقی اور حکومت (برطانیہ) کی وفاداری کے ساتھ ہمسایہ اقوام سے اتفاق و اتحاد بڑھانے کی کوشش "۔کانگریس میں گو مسلمان زعماء کی ایک خاصی جماعت شامل تھی مگر عملاً اس پر ہندوؤں کا قبضہ تھا۔اس کے بر عکس مسلم لیگ خالص مسلمانوں کی سیاسی جماعت تھی جس میں مسٹر محمد علی جناح جیسے مشہور لیڈر شامل تھے۔جو ۱۹۲۱ ء میں کانگریس سے علیحدہ ہو چکے تھے اور مسلم مفاد کی ترجمانی کا فریضہ انتہائی خلوص سے ادا کر رہے تھے۔اور گو اس ابتدائی دور میں مسلمانوں نے ان کی سیاسی عظمت کو نہیں سمجھا۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اسی وقت سے ان کی قومی خدمات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے چنانچہ حضور نے ۱۴/ نومبر ۱۹۲۳ء کو بریڈ لا ہال میں تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کی مسٹر جناح اور راجہ صاحب محمود آباد سے بے التفاتی پر سخت اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ایک زمانہ تھا جب مسلمان ان کی بہت بڑی قدر کرتے اور ان کو اپنا لیڈر سمجھتے تھے۔مگر اب یہ حالت ہے کہ ان کو بالکل چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔اس طرح مسلمان نقصان اٹھا رہے ہیں۔اسی طرح شملہ میں لیکچر دیتے ہوئے فرمایا۔جناح صاحب اس وقت سے مسلمانوں کی خدمت کرتے آئے ہیں کہ محمد علی صاحب (جو ہر۔ناقل) ابھی میدان میں نہ آئے تھے۔۔۔میں صاف صاف کہتا ہوں کہ جناح صاحب میرے لیڈر نہیں۔میں اپنی قوم کا آپ لیڈر ہوں لیکن میں ان کی خدمات کے باعث ان کو قابل عزت اور قائم ادب سمجھتا ہوں جب تک مسلمانوں میں یہ احساس نہ ہو کہ خدمت کرنے والوں کی خدمات کا اعتراف کریں اور ان کا ادب کریں اس وقت تک ان میں قومی و قار پیدا نہ ہو گا "۔مسٹر محمد علی جناح کی خدمات ہی کا اثر تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کو نہ صرف ان کی