تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 512 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 512

تاریخ احمدیت جلد ۴ پانچواں باب (فصل سوم) 199 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال دو بزرگ ہستیوں کا انتقال اس سال کے نہایت اہم اور دردناک واقعات میں سے یہ ہے کہ حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب اور حضرت امتہ الحی صاحبہ (حرم ثانی حضرت خلیفہ المسیح الثانی) جیسی بزرگ ہستیاں بھی داغ مفارقت دے گئیں۔انا الله وانا اليه راجعون حضرت میر ناصر نواب صاحب کا وصال ۱۹/ ستمبر ۱۹۲۴ء کو ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جسمانی تعلق اور عظیم الشان خدمات دینیہ کے باعث سلسلہ احمدیہ میں آپ کو ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔اکل حلال جرأت ایمانی، محنت و مشقت استقلال، سخاوت، ہمدردی خلق اور احکام شریعت کا کمال اہتمام آپ کی طبیعت ثانیہ بن چکا تھا۔پوری عمر قال اللہ اور قال الرسول پر سختی سے کار بند رہے۔سلسلہ کی خدمت کا ہر کام اعزازی کیا۔اور آنریری کام کرنے کے باوجود تنخواہ لینے والوں سے زیادہ محنت و استقلال کا ثبوت دیا ( آپ کی خدمات کا تذکرہ) " تاریخ احمدیت " جلد سوم میں کیا جا چکا ہے) حضرت میر صاحب کی وفات کے دو ماہ بعد ۱۰ دسمبر ۱۹۲۴ء کو (ام خلیل) حضرت امتہ الھی صاحبہ بھی اپنے مولا سے جاملیں۔حضرت خلیفتہ المسیح نے آپ کی وفات پر فرمایا۔عورتوں پر خصوصیت سے میری اس بیوی کا احسان ہے۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد میرا منشا نہیں تھا کہ میں عورتوں میں درس دیا کروں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بہت ہی بڑی ہمت کا کام ہے کہ ایسے عظیم الشان والد کی وفات کے تیسرے روز ہی امتہ الحی نے مجھے کو رقعہ لکھا ( اس وقت میری ان سے شادی نہیں ہوئی تھی) کہ مولوی صاحب مرحوم اپنی زندگی میں ہمیشہ عورتوں میں قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے۔اب آپ کو خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی آخری ساعت میں مجھے وصیت فرمائی کہ میرے مرنے کے بعد میاں سے کہہ دینا کہ وہ عورتوں میں درس دیا کریں۔اس لئے میں اپنے والد صاحب کی وصیت آپ تک پہنچاتی ہوں۔وہ کام جو میرے والد صاحب کیا کرتے تھے۔اب آپ اس کو جاری رکھیں وہ رقعہ ہی تھا جس کی بناء پر میں نے عورتوں میں درس دینا شروع کیا اور وہ رقعہ ہی تھا جس کی وجہ سے میرے دل میں ان سے نکاح کا خیال پیدا ہوا۔پس اگر اس درس کی وجہ سے کوئی فائدہ عورتوں کو پہنچا ہو تو یقینا اس کے ثواب کی مستحق بھی مرحومہ ہی ہے۔۔۔۔۔۔بلکہ حق تو یہ