تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 496 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 496

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 472 خلافت ثانیہ کا گیار جواب سال تھے۔آپ نہایت ہی نیک نفس اور متوکل آدمی تھے میں نے جب تبلیغ کے لئے اعلان کیا کہ ایسے مجاہدوں کی ضرورت ہے جو تبلیغ دین کے لئے زندگی وقف کریں تو انہوں نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔اس وقت ان کے پاس کچھ روپیہ تھا۔انہوں نے اپنا مکان فروخت کیا تھا۔رشتہ داروں اور اپنے متعلقین کا حصہ دے کر خود ان کے حصہ میں جتنا آیا۔وہ ان کے پاس تھا۔اس لئے مجھے لکھا کہ میں اپنے خرچ پر جاؤں گا۔اس وقت میں ان کو بھیج نہ سکا اور کچھ عرصہ بعد جب ان کو بھیجنے کی تجویز ہوئی تو اس وقت وہ روپیہ خرچ کر چکے تھے۔مگر انہوں نے ذرا نہ بتایا کہ ان کے پاس روپیہ نہیں ہے۔وہ ایک غیر ملک میں جا رہے تھے۔ہندوستان سے باہر کبھی نہ نکلے تھے اس ملک میں کسی سے واقفیت نہ تھی۔مگر انہوں نے اخراجات کے نہ ہونے کا قطعاً اظہار نہ کیا اور وہاں ایک عرصہ تک اسی حالت میں رہے انہوں نے وہاں سے بھی اپنی حالت نہ بتائی نہ معلوم کس طرح گزارہ کرتے رہے پھر مجھے اتفاقا پتہ لگا۔ایک دفعہ دیر تک ان کا خط نہ آیا اور پھر جب آیا تو لکھا تھا چونکہ میرے پاس ٹکٹ کے لئے پیسے نہیں تھے اس لئے خط نہ لکھ سکا۔اس وقت مجھے سخت افسوس ہوا کہ چاہئے تھا جب ان کو بھیجا گیا۔اس وقت پوچھ لیا جاتا کہ آپ کے پاس خرچ ہے یا نہیں۔پھر میں نے ایک قلیل رقم ان کے گزارہ کے لئے مقرر کر دی۔وہاں کے لوگوں پر ان کی روحانیت کا جو اثر تھا اس کا پتہ ان چٹھیوں سے لگتا تھا جو آتی رہی ہیں۔ابھی پرسوں اترسوں اطلاع ملی ہے کہ آپ یکم رمضان (۱۳۴۶ھ ) کو فوت ہو گئے دس دن بیمار رہے ہیں پہلے ہلکا ہلکا بخار رہا۔آخری دن بہت تیز بخار ہو گیا۔جب ڈاکٹر کو بلایا تو اس نے کہا ہسپتال لے چلو۔دوسرے دن وہاں لے جانا تھا کہ فوت ہو گئے ان کی تیمارداری کرنے والے رات بھر جاگتے رہے۔سحری کے وقت آپ نے ایک دو دفعہ پانی مانگا تیماردار صبح کی نماز کے بعد سو گئے اور بارہ بجے کے قریب ان کی آنکھ کھلی تو آپ فوت ہو چکے تھے۔جس طرح قسطنطنیہ کی خوش قسمتی تھی کہ وہاں حضرت ایوب انصاری دفن ہوئے۔۔۔اس طرح یہ ایران کے لئے مبارک بات ہے کہ وہاں خدا تعالیٰ نے ایسے شخص کو وفات دی جسے زندگی میں دیکھنے والے ولی اللہ کہتے تھے اور جسے مرنے پر شہادت نصیب ہوئی۔" حضرت شہزادہ عبد المجید صاحب تهران کے جنوبی طرف شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں دفن کئے گئے۔۱۹۵۳ء تک آپ کا مزار مبارک موجود تھا مگر اس کے بعد یہ قبرستان ہموار کر کے اس پر عمارتیں تعمیر کر دی گئیں اور اس کا ظاہری نشان بھی مٹ گیا۔۱۵۵ حضرت شہزادہ عبد المجید خان صاحب کے بعد مندرجہ ذیل مبلغین ایران تشریف لے گئے۔(۱) حضرت میر مهدی حسین صاحب (۲) حضرت بابو فقیر علی صاحب (۳) شیخ عبد الواحد صاحب (۴)