تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 487
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 463 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال پھر بہت سے لوگوں نے بیعت کی۔ساند ھن سے روانہ ہو کر حضور اچھنیرہ اسٹیشن سے سوار ہوئے اور اسی رات دہلی پہنچے۔دہلی اسٹیشن پر بہت بڑا مجمع تھا۔یہاں تک کہ چلنا مشکل ہو گیا۔دہلی اور شملہ کی جماعتوں نے ایڈریس پیش کیا۔جس کا حضور نے جواب دیا اور ۲۳/ نومبر کی صبح کو دہلی سے روانہ ہو کر انبالہ پہنچے اور انبالہ سے بٹالہ روانہ ہوئے۔تمام درمیانی اسٹیشنوں پر جہاں گاڑی کھڑی ہوئی۔مختلف مقامات کی جماعتوں نے آکر شرف ملاقات حاصل کیا۔انبالہ کے اسٹیشن پر جماعت انبالہ کی طرف سے دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔راجپورہ کے اسٹیشن پر ریاست پٹیالہ سرہند ، نابھہ اور بی وغیرہ کی جماعتیں موجود تھیں۔چاوا اور دوراہا کے اسٹیشنوں پر غوث گڑھ کی جماعت موجود تھی چار پر گاڑی اسٹیشن سے آگے نکل آئی تھی مگر اسٹیشن پر جماعت دکھائی دی۔اس لئے گاڑی رکوائی گئی اور حضور نے کچھ دور پیدل چل کر اپنے خدام کو شرف مصافحہ بخشا۔لدھیانہ اسٹیشن پر قابل دید منظر تھا۔تمام جماعتیں جو ضلع لدھیانہ اور فیروز پور اور مالیر کوٹلہ سے آئی ہوئی تھیں۔ایک خاص ترتیب سے صف بستہ کھڑی تھیں۔شیخ محمد شفیع صاحب سیکرٹری جماعت لدھیانہ نے ایڈریس پڑھا۔جس کا حضور نے جواب دیا۔لدھیانہ کے بعد گاڑی جالندھر چھاؤنی پر ٹھری۔جہاں ضلع جالندھر ہوشیار پور اور کپور تھلہ کی جماعت کے نمائندے کثیر تعداد میں موجود تھے۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ نے ایڈریس پڑھا پھر گاڑی جالندھر اور بیاس اسٹیشنوں پر مختصر قیام کرتی ہوئی امر تسر پہنچی جہاں پلیٹ فارم پر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔جماعت احمدیہ کا مبارکباد اور خیر مقدم کا بلند جھنڈا لہرا رہا تھا۔قریشی محمد حسین صاحب (موجد مفرح عنبری) قائم مقام امیر جماعت احمد یہ لاہور نے ایڈریس پڑھا اور حضور نے اس کا جواب دیا۔جماعت امر تسر کی طرف سے کھانا پیش کیا گیا گاڑی ابجے بٹالہ پہنچی۔جماعت قادیان کی طرف سے بٹالہ میں حضور کے استقبال وقیام کے انتظام کے لئے احباب موجود تھے۔حضور نے رات بٹالہ میں قیام فرمایا اور ۲۴/ نومبر ۱۹۲۴ء کو بروز دوشنبه مبارک دو شنبه " بٹالہ سے بذریعہ موٹر قادیان کے لئے روانہ ہوئے۔قادیان میں درود مسعود اور آپ کا نہایت ادھر حضور روانہ ہوئے ادھر قادیان کے سب چھوٹے بڑے اس مقام کی طرف جانے شروع شاندار پُر جوش اور پر اخلاص استقبال ہو گئے جو استقبالیہ کمیٹی نے قادیان اور بٹالہ کی سڑکوں کے مقام اتصال پر کنوئیں کے پاس مقرر کیا تھا۔یہ جگہ شامیانے لگا کر قطعات اور رنگ