تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 461
یخ احمدیت۔جلد ۴ 437 خلافت عامیہ کا گیارھواں سال اپنے رفقاء سے فرمایا۔” یورپ کے متعلق مجھے اس بات کا خطرہ اور فکر نہیں ہے کہ اس کا مذہب کیونکر فتح کیا جائے گا۔مذہب کے متعلق تو مجھے یقین ہے کہ عیسائیت اسلام کے سامنے جلد سر نگوں ہو گی مجھے اگر فکر ہے تو صرف یہ ہے کہ یورپ کا تمدن اور یورپ کی ترقی اور دماغی ترقی کا کیونکر مقابلہ کیا جائے یہی دو باتیں ایسی ہیں جن پر غور و فکر کرتے ہوئے میں راتیں گزار دیتا ہوں اور گھنٹوں اسی سوچ میں پڑا رہتا ہوں"۔پھر فرمایا۔" انگریزی لباس سے مجھے سخت چڑ ہے اگر ہمارے بچوں میں سے کوئی پتلون اور ہیٹ کا استعمال کرے تو اس کو سزا دینی چاہئے۔جس قوم کے پاس لباس بھی اپنا نہیں اور دو سرے کے لباس کو اپنے لباس سے اچھا سمجھ کر اسے اختیار کر لینا چاہتی ہے۔اس قوم نے اس کا مقابلہ کیا کرنا ہے۔آنحضرت نے عربوں کی آنکھ کھلتے ہی اصل کو معلوم کر لیا تھا۔اس لئے آپ نے ارشاد فرمایا۔خالفوا اليهود والنصارى۔الخ نيز من تشبه بقوم فهو منهم " اور حقیقت یہی ہے کہ جو کسی قوم کے لباس کو اور تمدن کو قبول کر لیتا ہے وہ دل سے ان ہی میں سے ہوتا ہے کیونکہ دل اس کا ان کی عظمت اور بڑائی کا قائل ہو چکا ہوتا ہے "۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے طوفانی کیفیت میں بھی عموماً نماز با جماعت کا التزام رکھا اور اپنے رفقاء سفر اور جماعت کے لئے بہت دعائیں کیں۔آخر پانچویں روز (۱۹/ جولائی) سے طوفان کی حالت بدلنے لگی اور چھٹے روز (۲۰/ جولائی) کو بہت حد تک طوفان تھم گیا۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کی روایت ہے کہ اس روز حضور نے جب نماز عصر جملہ احباب سمیت جہاز کے فرسٹ اور سیکنڈ کلاس کے صحن میں ادا کی اور بعد نماز حضور مصلے پر تشریف فرما ہوئے اور تمام رفقائے سفر حضور کی خدمت میں حاضر تھے تو جہاز کے ڈاکٹر نے (جس کا نام مینگلی تھا اور اٹلی کا باشندہ تھا حضور کی طرف اشارہ کر کے آہستہ سے کہنے لگا۔Jesus Christ and "twelve Disciples یعنی یسوع مسیح اور بارہ حواری۔یہ سن کر میری حیرت کی کچھ حد نہ رہی کہ خداتعالی کیسا قادر ہے کہ پوپ کی بستی کا رہنے والا ایک نہایت کچی اور عارفانہ بات کہہ رہا ہے "۔ساتویں روز ۲۱ جولائی ۱۹۲۴ء کو حضور اپنے خدام میں قریباً ڈیڑھ بجے رات تک رونق افروز رہے۔ناگپور کا ایک ہندو نوجوان مسٹر جوشی بی ایس سی جو مکینکل انجینرنگ کی تعلیم کے لئے جر منی جارہا تھا حضور کی خدمت میں حاضر تھا۔حضور نے حقیقی مذہب کی شناخت اور زندہ خدا پر ایمان کے صحیح طریق پر بہت لطیف تقریر فرمائی جس سے مسٹر جوشی بہت متاثر ہوا اور کہا کہ حقیقت میں آج مجھے نیا علم ملا ہے ۶۳ آٹھویں دن (۲۲ جولائی جہاز عدن کے اور قریب آیا تو حضور نے آدھی رات کے وقت اپنے "