تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 440 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 440

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 432 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال بہت بڑے مجمع میں حضور کا ان اصحاب کے ساتھ جو حضور کے ہمراہ تشریف لے جارہے تھے۔(اور جو سبز پگڑیاں، بند گلے کے سیاہ کوٹ اور پاجامہ میں ملبوس تھے ) فوٹو لیا گیا۔ان اصحاب میں حضرت شہزادہ عبد المجید صاحب - مولوی ظہور حسین صاحب اور مولوی محمد امین صاحب بھی کھڑے کئے گئے جو ایران اور بخار میں تبلیغ کے لئے روانہ ہونے والے تھے۔حضور انور کے سر پر سفید پگڑی تھی اور آپ کرسی پر رونق افروز تھے۔حضور نے اپنے معمولی لباس ململ کی سفید چڑی پکھلے گلے کا لمبا کوٹ اور سفید لٹھے کی شلوار میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی۔الله اس موقعہ پر حضور نے دو نکاحوں کا بھی اعلان فرمایا اور دعا کے بعد حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی ایک الوداعی نظم ملک عبد العزیز صاحب طالب علم مدرسہ احمدیہ نے ایسے رقت انگیز لہجہ میں پڑھی کہ حضور آبدیدہ ہو گئے اور اخیر تک اپنا چہرہ مبارک رومال سے ڈھانچے رہے۔اس تقریب کے بعد حضور رات کے ایک بجے تک اپنے بعد کام چلانے کے متعلق ہدایات دیتے رہے۔روانگی سے قبل مزار مسیح موعود پر آخری دعا / جولائی ۱۹۲۴ء کو روانگی کا دن تھا " اس دن حضور صبح صبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر آخری بار دعا کرنے کے لئے تشریف لے گئے اس دعا کے وقت حضور کے قلبی جذبات کیا تھے ؟ حضور خود ہی اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔صبح۔۔۔۔اس آخری خوشی کو پورا کرنے کے لئے چلا گیا جو اس سفر سے پہلے میں قادیان میں حاصل کرنی چاہتا تھا۔یعنی آقائی و سیدی و راحتی و سردری و حبیبی و مرادی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے مزار مبارک پر دعا کرنے کے لئے مگر آہ وہ زیارت میرے لئے کیسی افسردہ کن تھی۔یہ جدائی میرے لئے ایک تلخ پیالہ تھا اور ایسا صالح کہ اس کی تلخی کو میرے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔میری زندگی کی بہت بڑی خواہشات میں سے ہاں ان خواہشات میں سے جن کا خیال کر کے بھی میرے دل میں سرور پیدا ہو جاتا تھا۔ایک یہ خواہش تھی کہ جب میں مرجاؤں (اللهم متعنا بطول حياته و اطلع شموس طالعه مولف) تو میرے بھائی جن کی محبت میں میں نے عمر بسر کی ہے اور جن کی خدمت میرا واحد شغل رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے عین قدموں کے نیچے میرے جسم کو دفن کر دیں تاکہ اس مبارک وجود کے قرب کی برکت سے میرا مولی مجھ پر بھی رحم فرما دے۔ہاں شاید اس قرب کی وجہ سے وہ عقیدت کیش احمدی جو جذبہ محبت سے لبریز دل لے کر اس مزار پر حاضر ہو میری قبر بھی اس کو زبان حال سے یہ کہے کہ ع اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی"