تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 435
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 427 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال اگر آپ مجھے جانے کا مشورہ دیں تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ میں اسلام کی ترقی کی خاطر روپیہ قرض لے کر بھی جانے کی کوشش کروں گا۔اور اپنی ذات کا بوجھ سلسلہ پر نہیں ڈالوں گا۔لیکن اگر آپ کے نزدیک میرا جانا مناسب نہ ہو تو دو سرا وفد بھیجنے کی صورت کی جائے گی۔جس میں چونکہ آدمی کم ہوں گے۔اس پر خرچ کم ہو گا۔گو دس گیارہ ہزار پھر بھی خرچ ہو جائے گا۔چونکہ فیصلہ فورا ضروری ہے اس لئے جو جماعتیں دور ہیں ان کو چاہیئے کہ اپنی رائے سے بذریعہ تار کے اطلاع دیں۔کل وقت سفر کا ساڑھے تین ماہ ہو گا۔۲۵/ مئی تک جواب پہنچ جانا چاہئے۔خاکسار مرزا محمود احمد قادیان ۱۴/ مئی ۱۹۲۴ء نوٹ: مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فی الحال اس خط کا مضمون اپنی جماعت کے دوستوں تک ہی محدود رہے۔خاکسار رحیم بخش ایم۔اے۔افسر ڈاک نوے فیصدی جماعتوں نے بھی یہی مشورہ دیا کہ حضور ہی بنفس نفیس تشریف لے جائیں۔پھر حضور نے بھی اور چالیس کے قریب دوستوں نے استخارے بھی کئے جن سے اس مشیت الہی کا علم ہوا کہ خود آپ ہی کو تشریف لے جانا چاہئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی طرف مزید توجہ فرمائی تو آپ پر یہ حقیقت بالکل منکشف ہو گئی کہ قرآن مجید میں ذوالقرنین ( مسیح موعود) یا اس کے نائب کے سفریورپ کی اور حدیث شریف میں سفرد مشق کی واضح پیشگوئیاں موجود ہیں۔ذوالقرنین کے سفر سے متعلق واقعہ پر مزید غور کرتے ہوئے حضور نے معلوم کیا کہ یہ سفر ( بنیادی اغراض کے اعتبار سے) تبلیغ کے لئے نہیں بلکہ مغربی ممالک میں اسلامی انقلاب کی تبلیغی سکیم تیار کرنے کے لئے کیا جائے گا۔اسی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ رویاء بھی آپ کے سامنے آیا کہ ” میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے۔۔۔۔۔اس کے علاوہ خود حضور کو ایک عرصہ قبل رویا میں سفر یورپ کا نظارہ دکھایا جا چکا تھا۔چنانچہ ایک ردیاء میں آپ نے دیکھا۔آپ لنڈن میں ہیں اور ایک جلسہ میں آپ شامل ہیں۔مسٹر لائڈ جارج (سابق برطانوی وزیر اعظم) اس جلسہ میں تقریر کر رہے ہیں کہ یکدم ان کی حالت بدل گئی اور انہوں گونا