تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 436
تاریخ احمدیت جلد ۴۔428 نے دہشت زدہ ہو کر کہا کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ " مرزا محمود امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دباتی چلی آتی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھا رہا ہے "۔۔دوسری رویا میں (جو کانفرنس کی تحریک سے دو تین ماہ پہلے کی تھی) آپ نے دیکھا کہ ” میں انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں جس طرح کہ کوئی شخص تازہ وارد ہوتا ہے اور میرا لباس جنگی ہے میں ایک جرنیل کی حیثیت میں ہوں۔۔۔اس وقت میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کوئی جنگ ہوئی ہے اور اس میں مجھے فتح ہوئی ہے اور میں اس کے بعد میدان کو ایک مدبر جرنیل کی طرح اس نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ اب مجھے اس فتح سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کس طرح حاصل کرنا چاہئے۔اتنے میں ایک آواز آئی William the Conqueror ولیم دی کنگر ریعنی ولیم (اولو العزم فاتح 1 ان امور پر غور و فکر اور مسلسل دعاؤں اور استخاروں کے بعد حضور نے ویمبلے کا نفرنس کی دعوت ایک اللی تحریک سمجھی اور بار جو دیکہ اتنے لمبے سفر پر جانے کے رستہ میں آپ کے لئے ذاتی طور پر بہت سے مشکلات حائل تھیں اور اس بوجھ کا اٹھانا آپ کے لئے بہت مشکل تھا۔حضور نے اپنے فرائض دینی کو مقدم رکھتے ہوئے پورے انشراح صدر سے سفریورپ پر جانے کا فیصلہ فرمالیا۔اور روانگی کی تاریخ ۱۲/ جولائی ۱۹۲۴ء معین کر دی۔چنانچہ حضور نے ۱۲۴ جون ۱۹۲۴ء کو اپنے فیصلہ کی اطلاع دیتے ہوئے اعلان فرمایا کہ "ہماری جماعت کا کام ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنا ہے اور چونکہ ساری دنیا کو اسلام کے حلقہ میں لانا ہمارا فرض ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے متعلق ہم ایک مکمل نظام تجویز کریں۔۔۔۔اس نظام کے مقرر کرنے کے لئے ضروری ہے خلیفہ مغربی ممالک کی حالت کو وہاں جا کر دیکھے۔۔۔پس مغربی ممالک میں تبلیغ کے کام کو اگر ہم نے جاری رکھنا ہے اور اگر اس پر جو روپیہ خرچ ہو تا ہے اس کی خدا تعالیٰ کو جوابدہی سے عہدہ برآ ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ خود خلیفہ وقت ان علاقوں میں جا کر ان کی مشکلات کو دیکھے۔اور وہاں کے ہر طبقہ کے لوگوں سے مشورہ کر کے ایک سکیم تجویز کرے۔۔۔۔پس ان ضروریات کو مد نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مذہبی کانفرنس کی تحریک کو ایک خدا کی تحریک سمجھ کر اس وقت باوجود مشکلات کے اس سفر کو اختیار کروں۔مذہبی کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے نہیں بلکہ مغربی ممالک کی تبلیغ کے لئے ایک مستقل سکیم تجویز کرنے اور وہاں کے تفصیلی حالات سے واقف ہونے کے لئے کیونکہ وہ ممالک ہی اسلام کے راستہ میں ایک دیوار ہیں جس دیوار کا توڑنا ہمارا مقدم فرض ہے"۔