تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 434
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 426 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال دو تین ( روز) (متن میں یہ لفظ سوارہ گیا ہے۔ناقل) کے بعد عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے جانے کے متعلق کچھ عذر پیش کیا اور ادھر ولایت سے دوبارہ تار آئی کہ مذہبی کا نفرنس چاہتی ہے کہ میں خود شامل ہوں۔اس پر دوبارہ مشورہ لیا گیا تو میر محمد الحق صاحب نے بھی جانے والوں کی تائید میں رائے دی لیکن میں نے بعد مشورہ یہ مناسب سمجھا کہ چونکہ خلیفہ وقت کا ملک سے باہر جانا گو ساڑھے تین ماہ کے لئے ہو۔ایک ایسا اہم امر ہے کہ اس کا سب جماعت پر اثر پڑتا ہے۔اس لئے سب جماعت کو مشورہ میں شامل کیا جاوے اور اس رائے کے ماتحت میں چاہتا ہوں کہ آپ کی انجمن اس معاملہ کے متعلق مشورہ دے کہ آیا اس کے نزدیک کونسا پہلو اختیار کیا جاوے۔میرا خود جانا زیادہ مناسب ہو گا یا بعض دوسرے دوستوں کو بھیجنا۔مشورہ کے وقت یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس امر سے میں متفق ہوں کہ اگر مغربی ممالک میں تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ امام جماعت کسی وقت اپنی آنکھوں سے ان ممالک کی حالت کو دیکھے تاکہ صحیح تجویز تبلیغ کے متعلق کر سکے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ موقع ٹھیک ہے یا ابھی انتظار کرنا چاہئے؟ خرچ کے متعلق یا د رکھنا چاہئے کہ اگر آپ لوگ اس امر کو پسند کریں کہ مجھے جانا چاہئے تو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ گو میں اس وقت سخت مقروض ہوں مگر خزانہ پر اپنا بوجھ نہیں ڈالوں گا۔بلکہ اپنا خرچ خود کروں گا گو کہ قرض ہی لینا پڑے مگر جو لوگ دوسرے ساتھ ہوں گے یعنی انگریزی لیکچرار اور علماء اور رپورٹ۔ان کا خرچ اور تبلیغ کا خرچ بتیس ہزار کے قریب ہو گا۔اس میں سے پندرہ سولہ ہزار تو وہ ہے جو خالص تبلیغ پر ہو گا اور پندرہ سولہ ہزار وہ ہے جو ان لوگوں کے آمد و رفت کے کرایہ اور مکان اور خوارک وغیرہ پر خرچ ہو گا۔جو لوگ یہ رائے دیتے ہیں کہ اس وقت مجھے ضرور جانا چاہئے ان کی یہ رائے ہے کہ اس رقم کا خاص بوجھ جماعت پر نہیں پڑے گا۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ مسجد برلن کے لئے جو زمین کی تھی اور جسے عمارت کھڑی کرتے ہوئے پیشتر اس کے کہ مسجد بنتی اس لئے روکنا پڑا تھا کہ جرمن کی مالی حالت بدل جانے کے سبب اس پر چھ سات لاکھ روپیہ خرچ آتا ہے۔(جس کا ذکر میں سالانہ جلسہ کے موقع پر کر چکا ہوں) اس جگہ کو مجلس شوری کے مشورہ کے بعد فروخت کیا گیا ہے اور اس پر چالیس ہزار روپیہ نفع آیا ہے۔یعنی ہمارے خرچ سے اتنی رقم زیادہ مل گئی ہے اس روپیہ سے جو نفع کے طور پر آیا ہے۔روپیہ قرض لے لیا جائے کیونکہ یہ روپیہ خدا تعالی کی طرف سے بطور انعام ملا ہے اور پھر تین چار سال میں آہستہ آہستہ کر کے جماعت اس رقم کو واپس کر دے اس طرح فوری بو جھ کوئی نہیں پڑے گا۔باقی لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس رقم کو ہمیں بالکل نہیں چھیڑنا چاہئے۔۔۔اور اگر ضرورت ہو تو اسی وقت سفر کرنا چاہئے کہ جب پہلے روپیہ جمع ہو۔اب ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر آپ لوگ مجھے مشورہ دیں کہ میں کون سا طریق اختیار کروں۔