تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 431
تاریخ احمدیت جلد ۴ 423 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال عظیم الشان کانفرنس کی تجویز کا مطلق علم نہ ہو سکا۔مگر جب کمیٹی کی تشکیل کے علاوہ مقررین بھی تجویز ہو چکے اور ۱۹۲۴ء کا بھی کچھ حصہ گزر چکا تو ایک سو سائٹی میں برسبیل تذکرہ کسی نے اس کا تذکرہ کیا جس پر آپ کمیٹی کے جائنٹ سیکرٹری ایم۔ایم شمار پلز سے ملے۔انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام سے متعلق احمدی جماعت کا نقطہ نگاہ ضرور پیش ہونا چاہئے۔کمیٹی میں ذکر آیا تو کمیٹی کے نائب صدر ڈاکٹر سر تھامس ڈبلیو آرنلڈ (مصنف Preaching of Islam) نے کمیٹی کو توجہ دلائی کہ انتخاب مقررین میں نیر صاحب سے ضرور مشورہ لیا جائے۔چنانچہ حضرت نیر صاحب کے ساتھ مجوزہ پروگرام پر نظر ثانی ہوئی۔آپ نے ہندومت اور بدھ کے نمائندوں کے نام تجویز کرنے کے علاوہ تصوف کی نمائندگی کے لئے حضرت صوفی حافظ روشن علی صاحب کا نام لکھایا۔مگر ساتھ ہی بتایا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ کی اجازت سے ہی حافظ صاحب آسکیں گے۔کمیٹی میں جو نہی یہ نام پیش ہوئے تو ڈاکٹر آرنلڈ اور پروفیسر مارگولیتھ نے اور کمیٹی کے دوسرے تمام ممبروں نے نہایت خلوص و محبت سے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں کانفرنس میں شمولیت کی درخواست کی جائے اور صوفی صاحب کو بھی ساتھ لانے کی گزارش کی جائے اس طرح حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں انگلستان کے سر بر آوردہ مستشرقین کی طرف سے دعوت نامہ پہنچا۔سفر یورپ کے لئے مشورہ یہ دعوت قاریان پنچی تو حضور ایدہ اللہ تعالی ن ۱۷ مئی ۱۹۲۳ء کو بعد نماز عصر ایک مجلس شوری بلائی۔جس میں دوستوں سے مشورہ طلب فرمایا کہ کسے کانفرنس میں شمولیت کے لئے لندن بھیجا جائے۔قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے عرض کیا کہ یہ تبلیغ اسلام کا ایک خاص موقعہ ہے اگر حضور خود بنفس نفیس تشریف لے جاسکیں تو مناسب ہو گا ن - دوسرے احباب نے بھی بھاری اکثریت سے اس کی تائید کی۔اس کے بعد حضور نے بیرونی جماعت سے استصواب فرمایا - چنانچہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۴ / مئی ۱۹۲۴ء کو احباب جماعت کے نام حسب ذیل مکتوب رقم فرمایا تھا۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم برادران! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته آپ لوگوں کو شاید معلوم ہو گا کہ ولایت میں دو سال سے ایک تجارتی نمائش کی تیاریاں ہو رہی تھیں جس میں انگریزی حکومت کے تمام علاقوں کی ہر قسم کی پیداوار اور صنعت کی چیزیں رکھی جائیں گی