تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 422
تاریخ احمدیت جلد ۴ 414 حواشی خراج قسمت هانیه کار سواں سال متحدہ ہندوستان مراد ہے۔" حیات شبلی صفحه ۵۵۳ تا ۵۵۸- لکھنو میں تو علمائے ندوہ نے مولانا شیلی کو اس وجہ سے کہ آپ نے احمدیوں کو جلسہ میں شرکت کی دعوت اور تقریر کرنے کا موقعہ دیا تھا جس طرح چاہا ہدف اعتراضات و الزامات بنایا۔لیکن اس کے برخلاف مولانا مسیح الزمان خان صاحب رئیس اعظم شاہجہانپور استاد نظام دکن نے احمدیوں کی شمولیت سے کام کئے جانے میں ذرا بھی تامل نہ فرمایا۔چنانچہ جب حاجی محمد سعید خاں صاحب سوداگر رئیس شاہ جہانپور کے پاس (جن کو حیات تیلی میں غلطی سے سفید خاں لکھ دیا ہے۔یہ اطلاع پہنچی کی قصبہ جلال آباد سے چند کوس کے فاصلہ پر موضع موہن پور میں چھ سات سر بر آوردہ ملکا نے راجپوت اپنے گھرانوں سمیت آریہ ہونے والے ہیں ان کو آریہ بنانے کے لئے بھرت پور وغیرہ راجواڑوں کی طرف سے بڑے اعلیٰ پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں اس تقریب پر بہت بڑا ازدحام ہو گا بڑے بڑے مقرر تقریریں کریں گے اگر آپ اس کی روک تھام کے لئے کچھ کر سکتے ہیں تو کریں۔اس اطلاع پر حاجی صاحب موصوف الصدر نے ایک مجلس مشاورت منتقد فرمائی۔جس کی صدارت کے فرائض مولانا مسیح الزمان خان صاحب استاد نظام دکن نے انجام دیئے اور باتفاق رائے یہ قرار پایا کہ دیوبندی عالم تو موجود ہیں دلی سے احمدی مناظر مولوی میر قاسم علی صاحب بلو الئے جائیں اور پھر موہن پور میں جلسہ کیا جائے۔میر قاسم علی صاحب کو بلوانے کی تجویز بھی ایک دیوبندی مولوی صاحب کی طرف سے تھی اور جو صاحب دلی جا کر انہیں ساتھ لائے وہ بھی دیوبندی مکتب خیال سے تعلق رکھنے والے مولانا سید نور احمد میاں صاحب فائز شاہ جہانپوری تھے۔کچھ لوگ تو پہلے ہی سے موہن پور پہنچ گئے تھے شیر اسلام میر قاسم علی صاحب کے تشریف لے آنے پر باقی جانے والے بھی موہن پور پہنچ گئے کئی روز وہاں دن رات جلسے کئے علماء نے تقریریں کیں اور وہاں کے لوگوں سے ان کے مکان پر جا کر بھی باتیں کی گئیں اور انہیں اپنے پاس بلا کر بھی نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک ملکانہ را چپوستہ تھا کر موہن سنگھ تو آریہ ہو گئے باقی سب بفضلہ تعالٰی محفوظ رہے یہ سب کار روائی حاجی محمد سعید خاں سود اگر شاہجہانپور اور مولانا مسیح الزمان خان صاحب استاد نظام دکن کی منشاء کے مطابق سیکرٹری انجمن احمد یہ شاہجہانپور ( حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب) کے ذریعہ سے انجام تک پہنچی۔۴ حیات شیلی صفحه ۵۲۹ ه حیات شیلی صفحه ۰۵۷۳۰۵۷۲ - فتنه ارتداد اور پولٹیکل قلابازیاں مشموله رفتار زمانہ لاہور۷ / جون ۱۹۵۰ء صفحه ۵-۷- ے نقوش آپ بیتی نمبر صفحہ ۳۶۹ -A سیرت محمد علی صفحه ۳۹۵ از رئیس احمد جعفری) - اخبار پر تاپ لاہور ۱۶ / مارچ ۱۹۲۳ء صفحہ ۴۔- بحوالہ اخبار زمیندار ۱۶/ مارچ ۱۹۲۳ء صفحه ۲- -A تیج دیلی ۲۰ مارچ ۱۹۲۶ء صفحہ ۶ بحوالہ ہندو راج کے منصوبے ( از ملک فضل حسین صاحب) بار ششم ستمبر ۱۹۳۰ء صفحه ۱۳۸ ۱۲ ۳ پیغام صلح بحوالہ ہندو راج کے منصوبے صفحہ ۱۳۸-۱۳۹ - اخبار تیج ویلی ۱۳/ جنوری ۱۹۲۵ء بحوالہ ہندو راج کے منصوبے صفحہ ۱۴۴ ۱۵ ملاحظہ ہو چیسہ اخبار ۱۶ / مارچ ۱۹۳۳ء و زمیندار ۱۹/ مارچ ۱۹۲۳ء صفحه ۰۲ کو الہ الفضل ۱۳/ مارچ ۶۹۲۳ صفحه ۷۔ع الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۲۳ء صفحہ ۷۔