تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 419 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 419

تاریخ احمد بیت ، جلد ۴ 411 خلافت عثمانیہ کا دسواں سال کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب مبلغ انگلستان و امریکه ۱۴ دسمبر ۱۹۲۳ء کو کامیاب و کامران ہو کر وارد قادیان ہوئے اور غم اس لئے کہ ۷ / دسمبر ۱۹۲۳ء کو حضرت مولوی حافظ عبید اللہ صاحب مبلغ ماریشس کے انتقال کی المناک اطلاع ملی۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے آپ کے اوصاف اور مقام کا ذکر کرتے ہوئے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا۔”ہماری ہندوستان کی جماعت میں تاحال اس قسم کے نمونے بہت کم ہیں جو صحابہ میں پائے جاتے ہیں اور پھر ایسے بہت کم ہیں۔جو خدمات دین کے اقرار کو نباہنا جانتے ہوں۔۔۔۔۔مگر مولوی عبید اللہ ہمارے ملک میں سے تھا جس نے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ دین کے لئے زندگی وقف کرنا اور پھر اس عہد کو نباہنا دونوں باتوں کو جانتا تھا۔ہماری جماعت میں پہلے شہید حضرت سید عبد اللطیف تھے یا دو سرے کہ ان سے پہلے ان کے ایک شاگر د شہید ہوئے تھے مگر وہ ہندو ستان کے نہ تھے بلکہ ہندوستان کے باہر کے تھے۔ہندوستان میں شہادت کا پہلا موقع عبید اللہ کو ملا " 1 اس سال کے آخر میں مولوی مبارک علی صاحب بی۔اے بنگالی اور دار التبلیغ جرمنی کا قیام ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کی کوشش سے یورپ میں دو سرا اسلامی مشن جرمنی میں قائم ہوا۔مولوی مبارک علی صاحب جو ۱۹۲۰ء سے لنڈن میں تبلیغ اسلام کر رہے تھے۔لنڈن سے سیدھے برلن بھجوائے گئے اور ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے قادیان سے تاریخ ۲۶/ نومبر ۱۹۲۳ء کو روانہ فرمایا۔جو ۱۸/ دسمبر ۱۹۲۳ء کو صبح دس بجے برلن پہنچے۔جرمنی میں سب سے پہلے پروفیسر فرنیزی 1 ایل ایل ڈی اور ڈاکٹر او سکا aa جیسے قابل مصنفوں کو احمدیت کی طرف توجہ ہوئی اور ان کے دیکھا دیکھی برلن کے کالجوں کے پروفیسر اور طلباء میں بھی تحقیق سلسلہ کی جستجو پیدا ہو گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ارادہ یہاں شاندار اسلامی مرکز قائم کرنے کا تھا اور اسی لئے مسجد برلن کی تحریک بھی آپ نے فرمائی مگر جر منی کے حالات یکا یک بدل گئے۔کاغذی روپیہ عملی طور پر منسوخ کر دیا گیا اور سونے کا سکہ جاری کیا گیا۔جس کی وجہ سے قیمتوں میں دو تین سو گنا اضافہ ہو گیا۔ایک طرف مبلغ کا خرچ ۶ پونڈ کی بجائے کم از کم ۲۵ پونڈ تک جا پہنچا۔دوسری طرف مسجد برلن کی تعمیر کے لئے جس کا پہلے تیس ہزار روپیہ کا اندازہ کیا گیا تھا پندرہ لاکھ روپے کے اخراجات بتائے جانے لگے۔ان حالات کی بناء پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے تعمیر مسجد کا کام ملتوی کرا دیا اور فیصلہ فرمایا کہ یورپ میں دو مرکز رکھ کر طاقت تقسیم کرنے کی بجائے دار التبلیغ لنڈن ہی مضبوط کیا جائے اور اسی سے