تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 420 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 420

تاریخ احمدیت جلد ۴ 412 خلافت عثمانیہ کا دسواں سال وسط یورپ میں تبلیغ اسلام ہو۔یہ فیصلہ مارچ ۱۹۲۴ ء میں ہوا۔اور مئی ۱۹۲۲ء میں یہ دار التبلیغ بند کر دیا گیا اور جرمنی کے مبلغ ملک غلام فرید صاحب ایم اے انگلستان چلے گئے مگر بالآخر ربع صدی کے بعد ۱۹۴۹ء میں چوہدری عبد اللطیف صاحب بی۔اے کے ذریعہ اس کا احیاء ہوا جس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔۱۹۲۳ء کے متفرق مگر اہم واقعات و حضرت خلیفہ المسیح الثانی یہ اللہ تعالی کے حرم ایده ۲۔ثالث میں مرزا طاہر احمد صاحب (اول) کی ولادت ہوئی اور حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کے ہاں صاحبزادی زکیہ بیگم صاحبہ پیدا ہو ئیں۔حضرت ماسٹر قادر بخش صاحب (والد ماجد حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد () اور المیہ صاحبہ حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار صاحب نے وفات پائی۔حضرت ام المومنین نے یکم اگست ۱۹۲۳ء کو نور ہسپتال قادیان کے زنانہ وارڈ کا سنگ بنیاد رکھا - قادیان میں پہلی بار سماٹرا کے طلباء تحصیل علم کے لئے آئے میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی کی ادارت میں دہلی سے ” دعوت الاسلام" کے نام سے ایک روزنامہ جاری ہوا۔- ایک اردو افریقی اخبار ملک احمد حسین صاحب بیرسٹر ( ابن ملک غلام حسین صاحب رہتاسی) کی زیر ادارت نیروبی سے نکلنا شروع ہوا۔ادارہ " یغام صلح" پر ایک مضمون بعنوان " دید کا بھید " کی بناء پر مقدمہ دائر تھا جس کی پیروی چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے رضا کارانہ طور پر کی۔اخبار "الفضل " نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔- حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے سالانہ جلسہ پر کوئی قوم قربانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی“ کے موضوع پر تقریر کی۔آپ کی سالانہ جلسہ کے موقعہ پر یہ سب سے پہلی تقریر تھی جسے نے نہایت روانی اور تسلسل کے ساتھ نباہا۔اجلاس کے صدر حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اس تقریر کے بعد فرمایا کہ " صاحبزادہ صاحب نے اسی لحن میں قرآن کریم پڑھا ہے کہ بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ہیں کیونکہ میں نے اس لحن میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی آواز سنی ہے " مشهور مباحثے مباحثہ جلال پور جناں ( حضرت حافظ روشن علی صاحب اور شیعہ مناظر پ tt ۱۳