تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 418 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 418

تاریخ احمدیت جلد ۴ 410 خلافت ثانیه کار جماعت اس کی ہر ممکن اور جائز مدد کرے گی اور قانونی طور پر جس قدر بھی اس کی تائید کر سکے گی اس کی تائید کرے گی۔اس شخص کا غم ہمارا غم ہو گا اور اس کی مصیبت ہماری مصیبت۔لیکن جو شخص بزدلی سے کام لے گا اور اپنی ضمیر کے خلاف جھوٹ سے اپنی مصیبت کو ٹلانا چاہے گا وہ ہم میں جگہ نہیں پائے گا اور خدا کی پاک جماعت اسے اپنی آغوش میں نہیں لے گی"۔(متحدہ) ہندوستان کی تاریخ میں صرف یہی ایک مثال ملتی ہے کہ کسی جماعت کے لیڈر نے اس طرح کھلے الفاظ میں اپنے پیروؤں کو محتاط اور پُر امن اور حق و صداقت کی خاطر مومنانہ غیرت و شجاعت کا نمونہ دکھانے کی پر زور تلقین کی ہو۔جماعت احمدیہ کے مصنفوں اور لیکچراروں نے اس ہدایت کے ایک ایک لفظ کی پابندی کر کے دکھا دی اور کسی قسم کی آزمائش ان کے ثبات و استقلال میں تزلزل پیدا نہ کر سکی۔"سیرت المہدی " کی تالیف سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال مبارک پر کئی سال گزر چکے تھے اور حضور کے قدیم صحابہ کی تعداد روز بروز کم ہو رہی تھی۔اس لئے وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق جتنی بھی روایات جمع ہو سکیں ان کو جلد از جلد محفوظ کر لیا جائے اور ترتیب استنباط و استدلال اور علم روایت و درایت کے نقطہ نگاہ سے واقعات کی تحقیق و تفتیش کا کام مستقبل پر چھوڑ دیا جائے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے اس اہم ترین ضرورت کے پیش نظر "سیرت المہدی " کے نام سے روایات کا ایک ایمان افروز مجموعہ مرتب کرنا شروع فرمایا اور خاص طور پر یہ اہتمام فرمایا کہ ایسے صحابہ سے روایات جمع کر لی جائیں جنہوں نے ابتدائی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت اٹھائی اور سلسلہ بیعت سے پہلے تعلق رکھنے والے تھے۔"سیرت المہدی " کا پہلا حصہ جس میں دوسرے اکابر صحابہ کے علاوہ خاص طور پر حضرت ام المومنین اور حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کی روایات خاص طور پر درج کی گئی تھیں۔اس سال دسمبر ۱۹۲۳ء میں شائع ہوا۔دوسرا اور تیسرا حصہ بالترتیب ۱۹۲۷ء اور اپریل ۱۹۳۹ء میں چھپ گیا۔چوتھے حصے کا مواد آپ نے قادیان ہی میں جمع کر لیا تھا جس میں بعض قدیم صحابہ (خصوصاً حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی نہایت ایمان پرور روایات شامل تھیں مگر اس کی اشاعت اب تک نہیں ہو سکی۔| AFA جماعت احمدیہ کے لئے دسمبر ۱۹۲۳ء کا پہلا ہفتہ خوشی اور جماعت احمدیہ کا پہلا شہید مبلغ غم کے مخلوط جذبات پیدا کرنے کا موجب تھا خوشی اس لئے