تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 412
404 خلافت ثانیہ کا دسواں سال اور بھاگ کر بخارا جا پہنچا۔دوہ ماہ تک آپ وہاں آزاد رہے لیکن دو ماہ کے بعد پھر انگریزی جاسوس کے شبہ میں گرفتار کئے گئے اور تین ماہ تک نہایت سخت اور دل کو ہلا دینے والے مظالم آپ پر کئے گئے اور قید میں رکھا گیا اور بخارا سے مسلم روسی پولیس کی حراست میں سرحد ایران کی طرف واپس بھیجا گیا۔اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہمت میں اور اخلاص اور تقویٰ میں برکت دے۔چونکہ ابھی اس کی پیاس نہ بجھی تھی اس لئے پھر کا کان کے ریلوے سٹیشن سے روسی مسلم پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا۔اور پا پیادہ بخارا پہنچا۔بخار میں ایک ہفتہ کے بعد پھر انکو گرفتار کیا گیا اور بدستور سابق پھر کا کان کی طرف لایا گیا اور وہاں سے سمرقند پہنچایا گیا۔وہاں سے آپ پھر چھوٹ کر بھاگے اور بخار ا پہنچے اور ۱۳/ مارچ ۲۳ء کو پہلی دفعہ بخارا میں اس جماعت کے مخلصین کو جو پہلے الگ الگ تھے اور حسب میری ہدایات کے ان کو پہلے آپس میں نہیں ملایا گیا تھا ایک جگہ اکٹھا کر کے آپس میں ملایا گیا اور ایک احمدیہ انجمن بنائی گئی اور با جماعت نماز ادا کی گئی اور چندوں کا افتتاح کیا گیا۔وہاں کی جماعت کے دو مخلص بھائی ہمارے عزیز بھائی کے ساتھ آنے کے لئے تیار تھے۔لیکن پاسپورٹ نہ مل سکنے کے سبب سے سر دست رہ گئے۔اس وقت محمد امین خان صاحب واپس ہندوستان کو آرہے ہیں اور ایران سے ان کا خط پہنچا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو خیریت سے واپس لائے اور آئندہ سلسلہ کی بیش از پیش خدمات کرنے کا موقع دے۔میں ان واقعات کو پیش کر کے اپنی جماعت کے مخلصوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ تکالیف جن کو ہمارے اس بھائی نے برداشت کیا ہے۔ان کے مقابلہ میں وہ تکالیف کیا ہیں جو ملکانہ میں پیش آرہی ہیں۔پھر کتنے ہیں جنہوں نے ان ادنی تکالیف کے برداشت کرنے کی جرأت کی ہے۔اے بھائیو! یہ وقت قربانی کا ہے۔کوئی قوم بغیر قربانی کے ترقی نہیں کر سکتی۔آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اپنی نئی برادری کو جو بخار میں قائم ہوئی ہے۔یونہی نہیں چھوڑ سکتے۔پس آپ میں سے کوئی رشید روح ہے جو اس ریوڑ سے دور بھیڑوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔اور اس وقت تک ان کی چوپانی کرے کہ اس ملک میں ان کے لئے آزادی کا راستہ اللہ تعالی کھول رے۔وأخر دعونا ان الحمد لله رب العالمين۔خاکسار میرزا محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ۹/ اگست ۱۹۲۳ء