تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 411
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 403 میں سے جو زندگی وقف کر چکے ہیں ایک دوست میاں محمد امین صاحب افغان کو میں نے اس کام کے لئے چنا اور ان کو بلا کر سب مشکلات بتادیں اور کہہ دیا کہ آپ نے زندگی وقف کی ہے۔اگر آپ اس عہد پر قائم ہیں تو اس کام کے لئے تیار ہو جائیں۔جان اور آرام ہر وقت خطرہ میں ہوں گے اور ہم کسی قسم کا کوئی خرچ آپ کو نہیں دیں گے آپ کو اپنا قوت خود کمانا ہو گا۔اس دوست نے بڑی خوشی سے ان باتوں کو قبول کیا۔اور اس ملک کے حالات دریافت کرنے کے لئے اور سلسلہ کی تبلیغ کے لئے بلا زاد راہ فورا نکل کھڑے ہوئے۔کوئٹہ تک تو ریل میں سفر کیا سردی کے دن تھے اور برفانی علاقوں میں سے گزرنا پڑتا تھا۔مگر سب تکالیف برداشت کر کے بلا کافی سامان کے دوماہ میں ایران پہنچے اور وہاں سے روس میں داخل ہونے کے لئے چل پڑے۔آخری خط ان کا مارچ ۱۹۲۲ء کا لکھا ہوا پہنچا تھا اس کے بعد نہ وہ خط لکھ سکتے تھے نہ پہنچ سکتا تھا۔مگر الحمد للہ کہ آج ۹/ اگست کو ان کا اٹھارہ جولائی کا لکھا ہوا خط ملا ہے۔جس سے یہ خوشخبری معلوم ہوئی ہے کہ آخر اس ملک میں بھی احمدی جماعت تیار ہو گئی ہے اور باقاعدہ انجمن بن گئی ہے۔اس دوست کو روسی علاقہ میں داخل ہو کر جو سنسنی خیز حالات پیش آئے وہ نہایت اختصار سے انہوں نے لکھے ہیں لیکن اس اختصار میں بھی ایک صاحب بصیرت کے لئے کافی تفصیل موجود ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کے تجربات سے دوسرے بھائی فائدہ اٹھا کر اپنے اخلاص میں ترقی کریں گے۔اور اسلام کے لئے ہر ایک قسم کی قربانی کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ حقیقی کامیابی خدا کی راہ میں فتا ہونے میں ہی ہے۔چونکہ برادرم محمد امین خان صاحب کے پاس پاسپورٹ نہ تھا۔اس لئے وہ روسی علاقہ میں داخل ہوتے ہی روس کے پہلے ریلوے سٹیشن قمنہ پر انگریزی جاسوس قرار دئے جا کر گر فتار کئے گئے۔کپڑے اور کتابیں اور جو کچھ پاس تھا۔وہ ضبط کر لیا گیا اور ایک مہینہ تک آپ کو وہاں قید رکھا گیا اس کے بعد آپ کو عشق آباد کے قید خانہ میں تبدیل کیا گیا۔وہاں سے مسلم روی پولیس کی حراست میں آپ کو براستہ سمرقند تاشقند بھیجا گیا اور وہاں دو ماہ تک قید خانہ میں تبدیل کیا گیا۔اور بار بار آپ سے بیانات لئے گئے تا یہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی حکومت کے جاسوس ہیں اور جب بیانات سے کام نہ چلا تو قسم قسم کی لالچوں اور دھمکیوں سے کام لیا گیا اور فوٹو لئے گئے تا عکس محفوظ رہے اور آئندہ گرفتاری میں آسانی ہو اور اس کے بعد گوشکی سرحد افغانستان لے جایا گیا اور وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دیا گیا مگر چونکہ یہ مجاہد گھر سے اس امر کا عزم کر کے نکلا تھا کہ میں نے اس علاقہ میں حق کی تبلیغ کرنی ہے۔اس نے واپس آنے کو اپنے لئے موت سمجھا اور روسی پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا