تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 410
تاریخ احمدیت جلد ۴ 402 خلافت ثانیه کا دسواں کہتے تھے۔انہوں نے وجہ مخالفت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس امر پر ایمان رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور ان کی مماثلت پر ایک شخص اسی امت کا مسیح موعود قرار دیا گیا ہے اور وہ ہندوستان میں پیدا ہو گیا ہے۔اس لئے یہ لوگ ہمیں اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔شروع میں ہمیں سخت تکالیف دی گئیں روسی حکومت کو ہمارے خلاف رپورٹیں دی گئیں کہ یہ باغی ہیں اور ہمارے بہت سے آدمی قید کئے گئے لیکن تحقیق پر روسی گورنمنٹ کو معلوم ہوا کہ ہم باغی نہیں ہیں بلکہ حکومت کے وفادار ہیں۔تو ہمیں چھوڑ دیا گیا۔اب ہم تبلیغ کرتے ہیں اور کثرت سے مسیحیوں اور یہودیوں میں سے ہمارے ذریعہ سے اسلام لائے ہیں لیکن مسلمانوں میں سے کم نے مانا ہے۔زیادہ مخالفت کرتے ہیں۔جب اس شخص کو معلوم ہوا کہ فتح محمد صاحب بھی اسی جماعت میں سے ہیں تو بہت خوش ہوا۔سلسلہ کی ابتداء کا ذکر اس نے اس طرح سنایا کہ کوئی ایرانی ہندوستان گیا تھا۔وہاں اسے حضرت مسیح موعود کی کتب میں وہ ان کو پڑھ کر ایمان لے آیا اور واپس آگریزد کے علاقہ میں جو اس کا وطن تھا۔اس نے تبلیغ کی کئی لوگ جو تاجروں میں سے تھے ایمان لائے وہ تجارت کے لئے اس علاقہ میں آئے اور ان کے ذریعہ سے ہم لوگوں کو حال معلوم ہوا اور ہم ایمان لائے اور اس طرح جماعت بڑھنے تھی۔یہ حالات فتح محمد صاحب مرحوم نے لکھ کر مجھے بھیجے۔چونکہ عرصہ زیادہ ہو گیا ہے اب اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ واقعات اسی ترتیب سے ہیں یا نہیں لیکن خلاصہ ان واقعات کا یہی ہے گو ممکن ہے کہ بوجہ مدت گزر جانے کے واقعات آگے پیچھے بیان ہو گئے ہوں۔جس وقت یہ خط مجھے ملا۔میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور میں نے سمجھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کہ بخارا کے امیر کی کہان آپ کے ہاتھ میں آگئی ہے۔اسی رنگ میں پوری ہو رہی ہے اور میں نے چاہا کہ اس جماعت کی مزید تحقیق کے لئے فتح محمد صاحب کو لکھا جائے کہ اتنے میں ان کے رشتہ داروں کی طرف سے مجھے اطلاع ملی کہ سرکاری تار کے ذریعہ ان کو اطلاع ملی ہے کہ فتح محمد صاحب میدان جنگ میں گولی لگنے سے فوت ہو گئے ہیں۔اس خبر نے تمام امید پر پانی پھیر دیا اور سر دست اس ارادہ کو ملتوی کر دینا پڑا۔مگر یہ خواہش میرے دل میں بڑے زور سے پیدا ہوتی رہی اور آخر ۲۱ ء میں میں نے ارادہ کر لیا کہ جس طرح بھی ہو اس علاقہ کی خبر لینی چاہئے۔چونکہ انگریزی اور روسی حکومتوں میں اس وقت صلح نہیں تھی اور ایک دوسرے پر سخت بد گمانی تھی اور پاسپورٹ کا طریق ایشیائی علاقہ کے لئے تو غالبا بندہی تھا۔یہ دقت درمیان میں سخت تھی اور اس کا کوئی علاج نظر نہ آتا تھا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح بھی ہو اس کام کو کرنا چاہئے اور ان احباب