تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 409
تاریخ احمدیت جلد ۴ 401 خلافت ثانیہ کا دسواں سال بولشو یکی فتنہ کی روک تھام کے لئے حکام بالا کے حکم سے انکی فوج روس کے علاقہ میں گھس گئے اور کچھ عرصہ تک وہیں رہی۔یہ واقعات عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں ہیں۔کیونکہ اس وقت کے مصالح یہی چاہتے تھے کہ روسی علاقہ میں انگریزی فوجوں کی پیش دستی کو مخفی رکھا جائے۔ان دوست کا نام فتح محمد تھا اور یہ فوج میں نائک تھے۔ان کی تبلیغ سے ایک اور شخص فوج میں احمدی ہو گیا اور اس کو ایک موقع پر روسی فوجوں کی نقل و حرکت کے معلوم کرنے لئے چند سپاہیوں سمیت ایک ایسی جگہ کی طرف بھیجا گیا جو کمپ سے کچھ دور آگے کی طرف تھی۔وہاں سے اس شخص نے فتح محمد صاحب کے پاس آکر بیان کیا کہ ہم لوگ پھرتے پھراتے ایک جگہ پر گئے جہاں کچھ لوگ شہر سے باہر ایک گنبد کی شکل کی عمارت میں رہتے تھے۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اس عمارت کے اندر ایسے آثار ہیں جیسے مساجد میں ہوتے ہیں لیکن کرسیاں بچھی ہوئی ہیں جو لوگ وہاں رہتے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ یہ جگہ تو مسجد معلوم ہوتی ہے پھر اس میں کرسیاں کیوں بچھی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ مبلغ ہیں اور چونکہ روی اور یہودی لوگ ہمارے پاس زیادہ آتے ہیں۔وہ زمین پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔اس لئے کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں۔نماز کے وقت اٹھا دیتے ہیں۔ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔اس پر اس دوست کا بیان ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ چونکہ یہ مذہبی آدمی ہیں میں ان کو تبلیغ کروں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو کہا کہ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا فوت ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح اور انبیاء فوت ہو گئے ہیں اسی طرح وہ فوت ہو گئے ہیں۔اس پر میں نے پوچھا کہ ان کی نسبت تو خبر ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہاں اس امت میں سے ایک شخص آجائے گا۔اس پر میں نے کہا کہ یہ عقیدہ تو ہندوستان میں ایک جماعت جو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو مانتی ہے۔اس کا ہے۔اس پر ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ بھی انہی کے ماننے والے ہیں۔فتح محمد صاحب نے جب یہ باتیں اس نواحمدی سے سنیں تو دل میں شوق ہوا کہ وہ اس امر کی تحقیق کریں۔اتفاقا کچھ دنوں بعد ان کو بھی آگے جانے کا حکم ہوا اور وہ روسی عشق آباد میں گئے۔وہاں انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا یہاں کوئی احمدی لوگ ہیں۔لوگوں نے صاف انکار کیا کہ یہاں اس مذہب کے آدمی نہیں ہیں۔جب انہوں نے یہ پوچھا کہ عیسی علیہ السلام کو وفات یافتہ مانے والے لوگ ہیں تو انہوں نے کہا کہ اچھا تم صابیوں کا پوچھتے ہو وہ تو یہاں ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایک شخص کا پتہ بتایا کہ وہ درزی کا کام کرتا ہے اور پاس ہی اس کی دوکان ہے یہ اس کے پاس گئے اور اس سے حالات دریافت کئے۔اس نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں۔یہ لوگ تعصب سے ہمیں صابی کہتے ہیں۔جس طرح رسول کریم ﷺ کے دشمن ان کے ماننے والوں کو صابی