تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 393 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 393

تاریخ احمدیت علی 385 خلافت ثانیه دسواں سال میں کوئی مداخلت نہ کریں گے۔کہا گیا کہ چھ ماہ ہوتے ہیں آپ کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم کہاں کہاں ہیں۔بہر حال فہرست مطلوبہ ارسال کر دی جائے گی۔یہ تقریر میں نے واپسی پر رات کو ہی قلمبند کرلی تھی"۔مجاہدین احمدیت پر ظلم و تشدد میدان ارتداد میں احمدی مجاہدین کو آریوں اور علماء کی طرف سے ظلم و تشدد کا تختہ مشق بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا گیا۔چنانچہ فرخ آباد میں آریوں نے ایک بار ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم کے مکان کا مسلح محاصرہ کر لیا۔مگر اس دوران میں اچانک پولیس کا ایک مسلمان سپاہی آگیا اور ان کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے اسی طرح ایک مولوی آل نبی صاحب نے کئی سو آدمی لے کر ان کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا اور ماسٹر صاحب اور ان کی اہلیہ اور بوڑھی والدہ اور ننھے بچے یونس احمد کو (جو اب قادیان میں درویشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں) جبر امکان سے نکال دیا اور ساتھ ہی دفتر بھی خالی کروالیا۔ان ہی مولوی صاحب کے رفقاء نے ایک دوسرے احمدی مبلغ عبد الرشید صاحب کو فحش گالیاں دیں اور قتل کی دھمکیاں دینے سے بھی قطعا دریغ نہ کیا - موضع اسمار میں آریوں اور مرتد ملکانوں نے مرزا غلام رسول صاحب ( ریڈر سیشن جج پشاور) پر لاٹھیوں سے مسلح حملہ کر کے ان کی جھونپڑی نیچے گرادی اور وہ نیچے دب گئے۔بازوؤں سے کھینچ کر باہر نکالا گیا۔ظالم و سفاک انہیں گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے اور دھکے دے کر گاؤں سے نکال دیا۔جس پر جماعت احمدیہ کی طرف سے مقدمہ دائر کیا گیا اور شیخ محمد احمد صاحب وکیل کپور حملہ نے اس کی پیروی کی۔20۔اکرن میں ہندو تھانیدار نے احمدی مبلغین کو علاقہ سے باہر نکل جانے پر مجبور کیا۔پھر مہاراجہ بھرت پور نے پوری ریاست میں یہ ظالمانہ حکم دے دیا کہ کوئی غیر ریاستی پر چارک (مبلغ) ریاست کی حدود میں چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہ رہے۔تب مجاہدین نے حدود ریاست سے باہر کیمپ لگا لیا۔ایک مجاہد ریاست میں جاتا اور موضع اکران میں ۲۴ گھنٹے ٹھر کر واپس آجاتا۔اس کے بعد دوسرا مجاہد پہنچ جاتا اور اس طرح باری باری اکرن میں شدھی کے خلاف مورچہ کی نگرانی ہوتی رہی۔ریاستی حکام نے جب یہ صورت دیکھی تو بڑے سٹ پٹائے۔آخر مہاراجہ بھرت پور نے احمدی مبلغین کے داخلہ ریاست پر قطعی پابندی عائد کردی۔ریاست کی اس مذہبی دست درازی پر مسلم پریس مثلاً " پیسہ اخبار "۔"سیاست" اور "وکیل" نے پر زور احتجاج کیا۔جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے ( جو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی