تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 392
تاریخ احمدیت جلد ۴ 384 خلافت ثانیه و موان سال گیا انہیں ورغلایا اور احمدیوں کو کافر قرار دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ احمد کی وہاں سے لوٹ آئے اور وہ مولوی ٹ آئے ایک دن بھی نہ ٹھہرا۔سب نے نماز چھوڑ دی اور ویسے کے ویسے رہ گئے۔امیر صاحب نے فرمایا کہ ان لوگوں کی تحریر میرے پاس موجود ہے اور انہوں نے کہا ہم قادیان بیعت کرتے ہیں۔لیکن ہم خاموش رہے۔اب بتاؤ ہم نے انہیں کہا تھا کہ بیعت کرو۔اسی طرح آئے دن واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔مولوی چاہتے ہیں کہ کام نہ خود کریں نہ کرنے دیں۔آنور ایک بڑا گاؤں ہے چھ سو ملکا نے وہاں آباد ہیں۔اگر وہ واپس ہو تو بھرت پور پر اس کا اثر پڑتا ہے۔دیگر دیہات متھرا پر بھی اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔وہاں ہمارے تین آدمی مقرر ہیں۔شیخ فضل صاحب جو بٹالہ کے رئیس ہیں اور دو اور تعلیم یافتہ آدمی اب چوتھا آدمی نمائندگان کا وہاں کیوں جائے۔لیکن نواب خاں وہاں گیا کہ عبدالحی صاحب نے اسے حکم دیا کہ تم نوکر ہو وہاں ضرور جانا ہو گا۔اس نے جا کر انہیں بگاڑا۔ورنہ وہ واپسی کے لئے آمادہ تھے۔اس شرط پر کہ آریوں سے جو دو سو روپیہ مرمت چاہ کے لئے وہ لے چکے ہیں انہیں واپس دے کر رسید ہم لے لیں اور اگر وہ کوئی مقدمہ کریں تو ہم ان کی امداد کریں۔ہم تیار تھے کہ یہ آدمی پہنچا۔ملکا نے ایک ہوشیار قوم ہے انہوں نے جب دیکھا کہ دو خریدار ہیں۔تو اب کہتے ہیں کہ ۸۰۰ دلاؤ ہمارا اچندہ صرف ہندوستان پر ہی نہیں بلکہ دیگر تمام ممالک یورپ امریکہ افریقہ پر بھی صرف ہوتا ہے۔میں بجٹ سے ایک پیسہ زیادہ نہیں کر سکتا۔اگر ہمار امقابلہ ہی کرنا ہے تو جاؤ پنجاب میں بنگال میں تمام ہندوستان میں ہمارا مقابلہ کرو۔یہ علاقہ اسلام پر ایک مصیبت ہے یہاں ہی ہمارے ساتھ دشمنی کرنی ہے۔اگر اتحاد نہیں ہو سکتا تو دشمنی تو نہ ہو اگر ہم آپ کے خیال میں مسلمان نہیں تو ہم ہر دو کم از کم تعلیم یافتہ تو ہیں ملکانے ہم دونوں کو پریشان کر رہے ہیں۔اس کا تو خیال ہو۔اگر آپ کہیں تو ہم آپ کے حسب مرضی جو جو گاؤں آپ چاہیں چھوڑ دیں لیکن باقیوں پر ہمارا کامل تسلط ہو گا اور آپ کی طرف سے کوئی دراندازی نہ ہوگی اگر یہ بھی نہ ہو تو ہم یہاں سے چلے جاتے ہیں لیکن ایک سو چالیس گاؤں ہیں ان میں کم از کم دو سو اسی آدمی مبلغ در کار ہوں گے آپ کو ان کا انتظام کرنا ہو گا غرض کوئی معاہدہ بھی ہو لیکن استوار ہو۔خدا جانتا ہے کہ ہمیں یہاں آنے سے کوئی خاص غرض نہیں اور یہ شکایت محض جانبین کی بہتری کے لئے ہے انتهى كلامه یه تمام گفتگو نذیر احمد خاں صاحب اور عبدالحی صاحب نائب ناظم مجلس نمائندگان کے روبرو ہوئی۔آخر نذیر احمد خاں صاحب عبدالحی صاحب کو اٹھا کر ایک طرف لے گئے اور واپس آکر عبدالحی صاحب نے کہا کہ آپ اپنے دیہات کی ایک فہرست ہمارے پاس بھیج دیں۔اس کے بعد ہم ان نامزدہ دیہات