تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 391
383 خلافت ثانیه و سوار لیکن بھنگیوں چماروں تک کو کنوؤں سے پانی بھرنے ، مندروں میں درشن وغیرہ کی اجازت ضرور دی جائے پنڈت لوگوں نے مخالفت بھی کی لیکن مالویہ کے آگے ان کی پیش نہ گئی اور بالآخر یہ پاس ہو گیا۔مارواڑی کروڑپتی اور دور دراز کے نمائندے شریک تھے راجہ بھرت پور کی حسن کارکردگی کا خصوصاً اعتراف کیا گیا۔اس کے بعد وکیل صاحب موصوف نے نوٹ لکھوایا کہ میرا یہ خیال ہے کہ اگر ہندوستان کی کل جماعتیں ایک شخص کے ماتحت ہو کر کام نہ کریں گی تو ۱۹۲۳ء میں دو کروڑ نفوس مرتد ہو جائیں گے اور ہمیں مخاطب کر کے کہا کہ اگر میرے بس میں ہو تا تو اجمل خاں محمد علی شوکت ، کچلو د غیرہ تمام مسلمان لیڈروں کو کہتا کہ لیڈری کو چھوڑو۔شکاری شکار کھیلتا ہے اور تم لوگ اس کی بندوق و تیر اٹھائے پھرتے ہو۔وغیرہ۔اتنا عرصہ ہم خاموش بیٹھے رہے اور مضمون کے ختم ہونے پر امیر صاحب نے حرف مطلب یوں شروع کیا۔ہمیں نمائندگان تبلیغ سے سخت شکایت ہے ہم چھ ماہ سے یہاں پڑے ہیں۔ہماری جماعت کے بہترین آدمی بر سرکار ہیں۔ہم دوماہ میں شدھی وغیرہ سب کو پورے طور پر رفع دفع کر گئے ہوتے لیکن یہ مولوی لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ہم جان تو ڑ کر مسلسل کوشش سے ایک دیمہ کو فتح کرنے والے ہوتے ہیں کہ آپ کا آدمی پہنچتا ہے اور کام خراب کر دیتا ہے۔نہیں کافر ٹھہرا کر مالکانوں کو پہلا پھسلا کر کنور عبد الوہاب صاحب وغیرہ یہاں نہیں رہتے۔ہم شکایت ان سے کیسے کریں۔دین میں اعزازی عہدے نہیں ہوا کرتے کام کرتا ہو تا ہے۔ہم اب یہ برداشت نہیں کر سکتے یا تو مولوی کو۔۔۔۔۔ورون کے اندر نکال دیا جائے۔ورنہ ہم اس انجمن کے خلاف جو چاہیں گے کریں گے۔آریہ مسلمانوں سے بڑی قوم ہے۔انگریز اتنی بڑی قوم ہے ہم نے ان سے مقابلہ کھانا ہوا ہے تو پھر یہ مولوی وغیرہ کیا چیز ہیں یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ تمام جماعت احمد یہ کہہ رہی ہے۔نذیر احمد خاں آپ پندرہ دن اور گھر جائیں۔یہ مولوی ملانے بوریا بستر باندھ کر خود چل دیں گے۔امیر صاحب: ہم نے چھ مہینے انتظار کیا ہے لیکن کوئی اصلاح نہیں ہوئی۔کنور عبد الوہاب صاحب کے سامنے مکانوں نے ذکر کیا کہ آپ کے ایک مولوی نے احمدیوں کو ان کے گاؤں میں نہ رہنے دیا ورنہ وہ لوگ ان کے زیر اثر پنجو کہ نماز پڑھنے لگ گئے تھے حتی کہ بعض تجد بھی پڑھتے تھے نمائندگان کا آدمی