تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 14
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 14 سیدنا حضرت خدیقہ مسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت بھی ان کی دلداری نہیں بلکہ تربیت کے خیال سے کہانیاں سننے کی اور دوسروں کو سنانے کی اجازت ہی نہ دیتے تھے بلکہ خود بھی بعض اوقات سنا دیا کرتے تھے "۔ابھی آپ گود میں کھلتے تھے آپ کو حضور نے سیر کے لئے اپنے ساتھ لے جانا شروع کیا۔چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ سیر میں ایک دفعہ حضرت میاں صاحب (حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی) بھی ساتھ گئے نانا جان نے اٹھایا ہوا تھا رستہ میں حضور نے فرط محبت و شفقت سے آپ کو چوما۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے اپنے خطبات میں بچپن کی ایک ابتدائی سیر کالوں ذکر فرمایا ہے۔"میری پیدائش اور بیعت قریباً ایک ہی وقت چلتی ہے اور جب میں نے کچھ ہوش سنبھالا اس وقت کئی سال تبلیغ پر گزر چکے تھے۔لیکن مجھے اپنے ہوش کے زمانہ میں یہ بات یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیر کے لئے نکلتے تو صرف حافظ حامد علی صاحب ساتھ ہوتے۔ایک دفعہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اس طرف سیر کے لئے آنا یاد ہے۔میں اس وقت چونکہ چھوٹا بچہ تھا۔اس لئے میں نے اصرار کیا کہ میں بھی میر کے لئے چلوں گا۔اس زمانے میں یہاں جھاؤ کے پورے ہوا کرتے تھے۔اور یہ تمام علاقہ جہاں اب تعلیم الاسلام ہائی سکول بورڈنگ اور مسجد وغیرہ ہے ایک جنگل تھا اور اس میں جھاؤ کے سوا اور کوئی چیز نہ ہوا کرتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اسی طرف میر کو تشریف لائے اور میرے اصرار پر مجھے بھی ساتھ لے لیا۔مگر تھوڑی دیر چلنے کے بعد میں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ میں تھک گیا ہوں اس پر کبھی مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اٹھاتے اور کبھی حافظ حامد علی صاحب۔اور یہ نظارہ مجھے آج تک یاد ہے "۔حضرت سید فضل شاہ صاحب کہتے ہیں کہ جب کبھی حضرت میاں محمود احمد صاحب سامنے آتے اور اس وقت جب آپ بالکل بچے تھے۔میں نے حضرت صاحب کا یہ دستور دیکھا کہ جب ان کو کوئی لاتا یا خود آتے حضرت صاحب ان کو السلام علیکم فرمایا کرتے۔یہ تو بچپن کی بات ہے جوں جوں سیدنا حضرت محمود کی عمر زیادہ ہوتی گئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے اعزاز و اکرام میں نمایاں اضافہ ہوتا چلا گیا۔آخر عمر میں تو حضور کو حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت اور آرام کا خاص طور پر فکر رہتا تھا۔ماں کی مامتا اور محبت تو مشہور ہے مگر حضرت ام المومنین جیسی مازر مہربان نے سید نا محمود کو جس ناز و نعمت سے پالا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔حضرت ام المومنین کو گو سب صاحبزادوں سے پیار تھا مگر سید نا حضرت محمود پر تو آپ ہزار جان سے فدا تھیں۔