تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 385
تاریخ احمدیت جلد ۴ محال ہے " 377 خلافت ثانیه دسواں سال - اخبار "وکیل" (امرتسر) ۳ / مئی ۱۹۲۳ء نے اپنے اداریہ میں لکھا۔احمد کی جماعت کا طرز عمل اس بات میں نہایت قابل تعریف ہے جو باوجود چھیڑ چھاڑ کے محض اس خیال سے کہ اسلام چشم زخم سے محفوظ رکھا جائے۔ان خانہ جنگیوں کے انسداد کی طرف خود مسلمانوں کے لیڈروں کو توجہ دلاتے ہیں اور ہر طرح کام کرنے کو تیار ہیں۔ہم علی وجہ البصیرت اعلان کرتے ہیں کہ قادیان کی احمدی جماعت بہترین کام کر رہی ہے " et اخبار " نور " علی گڑھ (۳/ مئی ۱۹۲۳ء) نے لکھا۔اب تک جتنی انجمنوں نے اس کار خیر میں قدم رکھا ہے ان میں سے اعلیٰ کام قادیانی جماعت کا → e اب ہندو اخبارات کی رائے پڑھئے۔1- " آریہ پتر کا" (بریلی) نے یکم اپریل ۱۹۲۳ء کی اشاعت میں لکھا۔" اس وقت ملکا نے راجپوتوں کو۔۔۔اپنی پرانی راجپوتوں کی برادری میں جانے سے باز رکھنے کے لئے (یعنی مرتد ہونے سے بچانے کے لئے۔ناقل ) جتنی اسلامی انجمنیں اور جماعتیں کام کر رہی ہیں ان میں سے احمد یہ جماعت قادیان کی سرگرمی اور کوشش فی الواقع قابل داد ہے۔-۲- دیو سماجی اخبار ” جیون نت " (لاہور) نے لکھا۔ملکانہ راجپوتوں کی شدھی کی تحریک کو روکنے اور ملکانوں میں اسلامی مت کا پرچار کرنے کے لئے احمدی صاحبان خاص جوش کا اظہار کر رہے ہیں۔چند ہفتے ہوئے قادیانی فرقہ کے لیڈر مرزا محمود احمد صاحب نے ڈیڑھ سو ایسے کام کرنے والوں کے لئے اپیل کی تھی جو تین ماہ کے لئے ملکانوں میں جاکر مفت کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔جو اپنا اور اپنے اہل و عیال کا وہاں کے کرایہ وغیرہ کا کل خرچہ خود برداشت کر سکیں۔اور انتظام میں جس لیڈر کے ماتحت جس کام پر انہیں لگایا جاوے اسے وہ خوشی خوشی کرنے کے لئے تیار ہوں۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس اپیل پر چند ہفتوں کے اندر چار سو سے زیادہ درخواستیں ان شرائط پر کام کرنے کے لئے موصول ہو چکی ہیں اور تین پارٹیوں میں ۹۰ احمد ی صاحبان آگرہ کے علاقہ میں پہنچ چکے ہیں اور بہت سرگرمی سے ملکانوں میں اپنا پر چار کر رہے ہیں۔اس نئے علاقہ کے حالات معلوم کرنے کے لئے ان میں سے بعض نے جن میں گریجویٹ نوجوان بھی شامل تھے۔اپنے بسترے کندھوں پر رکھ کر اور تیز دھوپ میں پیدل سفر کر کے سارے علاقہ کا دورہ کیا ہے۔اپنے مت کے پر چار کرنے کے لئے ان کا جوش اور ایثار تعریف کے قابل ہے "